شاہ رخ عبیر کے اشعار
آج درپیش ہے پھر سے مجھے کربل کا سفر
آج کچھ میرے طرفدار بھی کم آئے ہیں
اپنی تصویر ایسے مت دیکھو
آنکھ کو آئنہ نہیں کرتے
تم کو معلوم کیا ہے آزادی
تم پرندے رہا نہیں کرتے
چلتا ہے ساتھ ساتھ خموشی کا اک ہجوم
تھک کر گریں گے ہم تو صدائیں لگائیں گے
شوق دیدار میں چلے آئے
چاندنی رات اور ہم دونوں
ایک منظر میں سمٹے ہم دونوں
تان کر انتساب کی چادر
-
موضوع : انتساب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں کہ بیمار دل نہیں لیکن
روز اک چارہ گر سے ملتا ہوں
آ گئے ہیں عبیرؔ کوچے میں
پہلی برسات اور ہم دونوں
-
موضوع : بارش
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بس سناتے ہو فیصلہ اپنا
تم کبھی مشورہ نہیں کرتے