Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shahrukh Abeer's Photo'

شاہ رخ عبیر

1993 | دلی, انڈیا

نئی نسل کے نمایاں شاعروں میں شمار

نئی نسل کے نمایاں شاعروں میں شمار

شاہ رخ عبیر کے اشعار

آج درپیش ہے پھر سے مجھے کربل کا سفر

آج کچھ میرے طرفدار بھی کم آئے ہیں

اپنی تصویر ایسے مت دیکھو

آنکھ کو آئنہ نہیں کرتے

تم کو معلوم کیا ہے آزادی

تم پرندے رہا نہیں کرتے

چلتا ہے ساتھ ساتھ خموشی کا اک ہجوم

تھک کر گریں گے ہم تو صدائیں لگائیں گے

شوق دیدار میں چلے آئے

چاندنی رات اور ہم دونوں

ایک منظر میں سمٹے ہم دونوں

تان کر انتساب کی چادر

میں کہ بیمار دل نہیں لیکن

روز اک چارہ گر سے ملتا ہوں

آ گئے ہیں عبیرؔ کوچے میں

پہلی برسات اور ہم دونوں

بس سناتے ہو فیصلہ اپنا

تم کبھی مشورہ نہیں کرتے

Recitation

بولیے