چاہنے والو پیار میں تھوڑی آزادی بھی لازم ہے
دیکھو میرا پھول زیادہ دیکھ بھال سے ٹوٹ گیا
-
موضوع : پھول
پرندے سب نہیں زندان میں مارے گئے ہیں
قفس میں کچھ تو کچھ نقل مکانی میں مرے ہیں
-
موضوع : ہجرت
چھیڑتی ہے مجھے آ آ کے مری آزادی
گو میں قیدی ہوں مرے پاؤں میں زنجیر بھی ہے
-
موضوع : قید
تم کو معلوم کیا ہے آزادی
تم پرندے رہا نہیں کرتے
-
موضوع : پرندہ
تا دم مرگ طائر ہستی
دام اندوہ سے رہا نہ ہوا
-
موضوع : غم
کھلی فضا مجھے عزیز ہے پر اس کو کیا کروں
بچھا ہوا زمیں سے آسماں تک ایک جال ہے
کوئی تدبیر نو اے اہل زنداں
کہیں زنجیر کٹتی ہے دعا سے