Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shahzad Aslam Raja's Photo'

شہزاد اسلم راجہ

1982 | بہاول پور, پاکستان

عوامی مسائل کی ترجمانی کرنے والے معروف کالم نگار اور ادیب

عوامی مسائل کی ترجمانی کرنے والے معروف کالم نگار اور ادیب

شہزاد اسلم راجہ کا تعارف

تخلص : 'راجہ'

اصلی نام : شہزاد اسلم

پیدائش : 04 Apr 1982 | بہاول پور, پنجاب

شہزاد اسلم راجہ کا اصل نام شہزاد اسلم ہے۔ آپ 4 اپریل 1982ء کو احمد پور شرقیہ، ضلع بہاول پور، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ جنوبی پنجاب کے علمی و ادبی ماحول میں پرورش پانے والے شہزاد اسلم راجہ ایک معروف کالم نگار، مضمون نگار اور ادیب ہیں، جو اپنے وسیب، عوامی مسائل، حب الوطنی اور سماجی موضوعات پر بے باک اور سادہ انداز میں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے لکھنے کا آغاز 1996ء میں بچوں کے رسائل اور اخبارات سے کیا۔ ان کی پہلی کہانی "کاش ایسا ہو جائے" روزنامہ نوائے وقت ملتان کے ہفتہ وار صفحہ "پھول اور کلیاں" میں شائع ہوئی۔ بعد ازاں انہوں نے کالم نگاری کو مستقل اظہار کا ذریعہ بنایا اور مختلف قومی اخبارات، جن میں روزنامہ آفتاب، نوائے وقت، پاکستان، سماء اور حریف شامل ہیں، میں ان کے کالم اور مضامین شائع ہوتے رہے۔

شہزاد اسلم راجہ کی تحریروں میں سادگی، عوامی درد، سماجی شعور اور حب الوطنی نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی تصانیف میں "آوارگی", "پھر آوارگی", "ایک اور آوارگی", "بے آواز ہیرو" اور بچوں کے لیے پنجابی سفرنامہ "ٹردے ٹردے" شامل ہیں، جسے 2018ء میں مسعود کھدر پوش ٹرسٹ کی جانب سے بچوں کے ادب میں پہلا انعام دیا گیا۔

Recitation

بولیے