Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shakil-ur-Rahman's Photo'

شکیل الرحمن

1931 - 2016 | گڑگاؤں, انڈیا

اردو میں جمالیاتی تنقید کے ممتاز نقاد

اردو میں جمالیاتی تنقید کے ممتاز نقاد

شکیل الرحمن کا تعارف

اصلی نام : شکیل الرحمن

پیدائش : 18 Feb 1931 | موتیہاری, بہار

وفات : 09 May 2016 | گڑگاؤں, ہریانہ

شناخت: ممتاز نقاد، ماہرِ جمالیات، افسانہ نگار، سابق مرکزی وزیرِ صحت اور سابق وائس چانسلر

اردو ادب میں شکیل الرحمن کی حیثیت ایک ایسے ہمہ جہت دانشور اور نقاد کی ہے جنھوں نے "جمالیاتی تنقید" کو اردو میں ایک نیا اور مستحکم وقار عطا کیا۔

شکیل الرحمن 18 فروری 1931ء کو موتیہاری (بہار) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کا تعلیمی و تدریسی سفر نہایت شاندار رہا؛ وہ کشمیر یونیورسٹی میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ اردو رہنے کے علاوہ بہار یونیورسٹی (مظفر پور) اور کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو سیاسی بھی تھا، جس میں انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور حکومتِ ہند میں مرکزی وزیرِ صحت کی ذمہ داریاں سنبھالیں، تاہم سیاست کی مصروفیت بھی ان کو علم و ادب سے دور نہ کر سکی۔

شکیل الرحمن نے اگرچہ اپنے ادبی سفر کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا اور ایک ناول "سمندر کا سفر" بھی تحریر کیا، لیکن ان کی اصل پہچان ایک نقاد، بالخصوص "جمالیات کے نقاد" کی حیثیت سے مستحکم ہوئی۔ انہوں نے اردو تنقید کو نفسیاتی اور جمالیاتی زاویوں سے روشناس کرایا۔ ان کی تصانیف کی فہرست طویل ہے جن میں ’ادب اور نفسیات‘، ’غالب کی جمالیات‘، ’اقبال اور فنونِ لطیفہ‘، ’منٹو شناسی‘، ’میر شناسی‘ اور ’مولانا رومی کی جمالیات‘ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔ اختر الایمان کی شاعری پر ان کا مطالعہ ’لاوے کا سمندر‘ اردو تنقید میں اہم مقام رکھتا ہے۔ غالب کے "آرکی ٹائیل پیٹرن" پر ان کی کتاب اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش قرار دی جاتی ہے۔ انہوں نے ہند اسلامی اور ہند مغل جمالیات پر کام کر کے برصغیر کے مشترکہ کلچر اور فنونِ لطیفہ کے تخلیقی رشتوں کو اجاگر کیا۔

شکیل الرحمن کی علمی خدمات کے اعتراف میں ان کو ایک "لیجینڈ" اور منفرد ادبی شخصیت مانا جاتا ہے۔ انہوں نے جمالیات کو اپنی تنقید کا مرکزی محور بنایا اور اس میدان میں اپنی انفرادی راہ نکالی۔ ان کی تحریروں میں شعور و لاشعور کی بحثیں اور فن پاروں کا جمالیاتی تجزیہ قاری کو ایک نئی بصیرت عطا کرتا ہے۔ اردو کے علمی حلقوں میں ان کو ایک ایسے صاحبِ طرز ادیب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے تنقید کو محض خشک مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فنونِ لطیفہ کے حسن سے ہم آہنگ کر دیا۔

وفات: شکیل الرحمن کا انتقال 9 مئی 2016ء کو گڑگاؤں (ہریانہ) میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے