- کتاب فہرست 180574
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
ڈرامہ917 تعلیم342 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1575 صحت104 تاریخ3263طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1624 خطوط727
طرز زندگی30 طب969 تحریکات268 ناول4269 سیاسی350 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6519افسانہ2666 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4191خواتین کی تحریریں5754-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد57
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت588
- نظم1200
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شکیل الرحمن کا تعارف
شناخت: ممتاز نقاد، ماہرِ جمالیات، افسانہ نگار، سابق مرکزی وزیرِ صحت اور سابق وائس چانسلر
اردو ادب میں شکیل الرحمن کی حیثیت ایک ایسے ہمہ جہت دانشور اور نقاد کی ہے جنھوں نے "جمالیاتی تنقید" کو اردو میں ایک نیا اور مستحکم وقار عطا کیا۔
شکیل الرحمن 18 فروری 1931ء کو موتیہاری (بہار) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور ڈی لٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کا تعلیمی و تدریسی سفر نہایت شاندار رہا؛ وہ کشمیر یونیورسٹی میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ اردو رہنے کے علاوہ بہار یونیورسٹی (مظفر پور) اور کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو سیاسی بھی تھا، جس میں انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور حکومتِ ہند میں مرکزی وزیرِ صحت کی ذمہ داریاں سنبھالیں، تاہم سیاست کی مصروفیت بھی ان کو علم و ادب سے دور نہ کر سکی۔
شکیل الرحمن نے اگرچہ اپنے ادبی سفر کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا اور ایک ناول "سمندر کا سفر" بھی تحریر کیا، لیکن ان کی اصل پہچان ایک نقاد، بالخصوص "جمالیات کے نقاد" کی حیثیت سے مستحکم ہوئی۔ انہوں نے اردو تنقید کو نفسیاتی اور جمالیاتی زاویوں سے روشناس کرایا۔ ان کی تصانیف کی فہرست طویل ہے جن میں ’ادب اور نفسیات‘، ’غالب کی جمالیات‘، ’اقبال اور فنونِ لطیفہ‘، ’منٹو شناسی‘، ’میر شناسی‘ اور ’مولانا رومی کی جمالیات‘ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔ اختر الایمان کی شاعری پر ان کا مطالعہ ’لاوے کا سمندر‘ اردو تنقید میں اہم مقام رکھتا ہے۔ غالب کے "آرکی ٹائیل پیٹرن" پر ان کی کتاب اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی کوشش قرار دی جاتی ہے۔ انہوں نے ہند اسلامی اور ہند مغل جمالیات پر کام کر کے برصغیر کے مشترکہ کلچر اور فنونِ لطیفہ کے تخلیقی رشتوں کو اجاگر کیا۔
شکیل الرحمن کی علمی خدمات کے اعتراف میں ان کو ایک "لیجینڈ" اور منفرد ادبی شخصیت مانا جاتا ہے۔ انہوں نے جمالیات کو اپنی تنقید کا مرکزی محور بنایا اور اس میدان میں اپنی انفرادی راہ نکالی۔ ان کی تحریروں میں شعور و لاشعور کی بحثیں اور فن پاروں کا جمالیاتی تجزیہ قاری کو ایک نئی بصیرت عطا کرتا ہے۔ اردو کے علمی حلقوں میں ان کو ایک ایسے صاحبِ طرز ادیب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے تنقید کو محض خشک مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے فنونِ لطیفہ کے حسن سے ہم آہنگ کر دیا۔
وفات: شکیل الرحمن کا انتقال 9 مئی 2016ء کو گڑگاؤں (ہریانہ) میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Shakeelur_Rehman
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1980
-
