Shamsur Rahman Faruqi's Photo'

شمس الرحمن فاروقی

1935 - 2020 | الہٰ آباد, ہندوستان

شاعر، فکشن نگار اورایک نمایاں اردو تنقید نگار

شاعر، فکشن نگار اورایک نمایاں اردو تنقید نگار

80
Favorite

باعتبار

دنیا کی نگاہوں میں تو میری پہچان ایسے نقاد کی ہے جس نے ادب کے ہر میدان میں تنقید کا حق ادا کیا ہے لیکن جس کے خیالات نے لوگوں کو گمراہ بھی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیا جسے گمراہی قرار دیتی ہے میں اسے راہ مستقیم سمجھتا ہوں۔

اردو ایک چھوٹی زبان ہے اور عمر بھی اس کی بہت کم ہے۔ اس کے بولنے والوں کی کوئی سیاسی قوت بھی نہیں ہے۔ جیسی کہ عربی بولنے والوں کی ہے۔ لیکن پھر بھی اردو اس وقت دنیا کی چند ایک زبانوں میں سے ایک ہے جو حقیقی طور پر بین الاقوامی ہیں۔

تنقید کا مقصد معلومات میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ علم میں اضافہ کرنا ہے۔

شاعری کا مزاج ہر عہد میں پروپیگنڈے کے خلاف رہا ہے۔

جب تعلیم کے نام پر خواندگی کی توسیع ہونے لگتی ہے تو معیار میں زبردست انحطاط پیدا ہوتا ہے۔

اعلیٰ درجے کے لغات کے بغیر زبان کی بنیادیں مضبوط نہیں ہوتیں۔

ادب میں یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ محسوس کی ہوئی باتیں ہی لکھی جائیں۔ ادب تو زبان کا معاملہ ہے۔ زبان میں جو اظہار ممکن ہے وہ ادب کا اظہار ہو سکتا ہے۔

میں تخلیق کو تنقید سے افضل مانتا ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تنقیدی تحریر کی زندگی کئی باتوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ان میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تنقید اپنی جگہ پر جامد ہوتی ہے۔ اس کے معنی زمانے کے ساتھ بدلتے نہیں لیکن تخلیق کی نوعیت حر کی ہے، زمانے کے ساتھ اس کے معنی اور معنویت دونوں بدل سکتے ہیں، لہٰذا تنقید ایک محدود کارگذاری ہے، چاہے اس میں کتنی ہی چمک دمک کیوں نہ ہو اور چاہے اس کے بارے میں کتنے ہی جلسے کیوں نہ منعقد ہوں اور کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کئے جائیں!

جغرافیائی شعور در اصل تاریخی شعور کے بغیر مہلک ہو جاتا ہے۔

ادیب کو کسی سیاسی یا غیر ادبی نظریے کا پابند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایسی پابندی اظہار کی آزادی کی راہیں روک دیتی ہے۔

شعر اس لئے برتر ہے کہ وہ زبان کا بہتر، زیادہ حساس اور نوکیلا استعمال کرتا ہے۔

ہندوستان کے بغیر اور ہندوستان کے باہر میرا کوئی وجود نہیں۔

رسم الخط وہ چیز ہوتی ہے جو آسانی یا کسی اور وجہ سے مروج ہونے کی بنا پر adopt کر لیا جاتا ہے۔ زبان کی جان اس میں نہیں ہوتی۔

میرے گروپ میں صرف دو رکن ہیں، میں اور میری بیوی۔

جو لوگ کہتے ہیں شمس الرحمن فاروقی سماجی عناصر اور سماجی شعور کے عناصر کو ادب سے خارج کرنا چاہتے ہیں ان لوگوں نے در اصل مجھے پڑھا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ میں تو ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آرہا ہوں کہ میں تو ادب کی خود مختاری اور ادیب کی آزادی کا قائل ہوں۔ جب میں ادیب کی آزادی کا قائل ہوں تو اس لیے یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ تم یہ نہ لکھو اور اور وہ نہ لکھو۔

ادب زندگی کا اظہار کرتا ہے اور زندگی کا ایک عمل ہے۔ اس کے لیے یہ اعلان کرنا ضروری نہیں کہ ادب کا تعلق زندگی سے ہے۔

شعر کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ زندگی سے اپنے تعلق یا اپنے انسان پن کو ثابت کرنے کے لیے سڑک پر جاکر جھنڈا اٹھائے اور نعرہ لگائے۔

فن پارے کی کوئی تعبیر حتمی اور آخری نہیں ہوتی، لہٰذا کوئی تنقید حرف آخر نہیں ہو سکتی۔

ترقی پسندوں نے غزل کو سامراجی نظام کی یادگار کہہ کر اس لئے برادری سے باہر کرنے کی کوشش کی کہ انہیں خوف تھا کہ اگر اس سخت جان لونڈیا کو گھر میں گھسنے دیا گیا تو اچھا نہ ہوگا۔

بے تکلف ہو جانے کے بعد میں بہت کم پردے کا قائل ہوں لیکن بے تکلف ہونے میں مجھے خاصی دیر لگتی ہے۔

اگر میری کوئی نسل ہے بھی اور وہ ’مسلم‘ یا ’عرب‘ نسل ہے، تو وہ میرے ہندوستانی عقائد اور محسوسات کے رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ ہندوستان کے بغیر اور ہندوستان کے باہر میرا کوئی وجود نہیں۔

ادب کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھانا اور منطقی ربط کے ساتھ ان کا جواب دینا نقاد کا پہلا کام ہونا چاہیے۔

اپنے ہم عصروں میں مجھے وہی لوگ زیادہ اچھے لگے جن کے لیے ادب سازشوں کا کھیل نہیں بلکہ زندگی سے بھی ماورا ایک حقیقت ہے۔

فکشن نگار کی حیثیت سے میرا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ میں اپنے کردار یا وقوعے کو جیسا بنانا چاہتا ہوں، ہمیشہ ویسا بنتا نہیں ہے۔ میرے سامنے سامع بھی نہیں ہے جس کے دباؤ کے تحت میں کردار اور واقعے کو آزاد نہ ہونے دوں۔ اس طرح متضاد سی صورت حال بنتی ہے کہ میں اپنے فکشن کا خالق ہوں بھی اور نہیں بھی ہوں۔۔۔