- کتاب فہرست 179240
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
تمام
تعارف
ای-کتاب474
مضمون54
افسانہ4
اقوال24
انٹرویو10
شعر1
غزل20
نظم17
آڈیو 1
ویڈیو 29
گیلری 22
رباعی9
بلاگ2
شمس الرحمن فاروقی کے اقوال
اردو ایک چھوٹی زبان ہے اور عمر بھی اس کی بہت کم ہے۔ اس کے بولنے والوں کی کوئی سیاسی قوت بھی نہیں ہے۔ جیسی کہ عربی بولنے والوں کی ہے۔ لیکن پھر بھی اردو اس وقت دنیا کی چند ایک زبانوں میں سے ایک ہے جو حقیقی طور پر بین الاقوامی ہیں۔
ادب میں یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ محسوس کی ہوئی باتیں ہی لکھی جائیں۔ ادب تو زبان کا معاملہ ہے۔ زبان میں جو اظہار ممکن ہے وہ ادب کا اظہار ہو سکتا ہے۔
دنیا کی نگاہوں میں تو میری پہچان ایسے نقاد کی ہے جس نے ادب کے ہر میدان میں تنقید کا حق ادا کیا ہے لیکن جس کے خیالات نے لوگوں کو گمراہ بھی کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیا جسے گمراہی قرار دیتی ہے میں اسے راہ مستقیم سمجھتا ہوں۔
جب تعلیم کے نام پر خواندگی کی توسیع ہونے لگتی ہے تو معیار میں زبردست انحطاط پیدا ہوتا ہے۔
میں تخلیق کو تنقید سے افضل مانتا ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تنقیدی تحریر کی زندگی کئی باتوں پر منحصر ہوتی ہے۔ ان میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تنقید اپنی جگہ پر جامد ہوتی ہے۔ اس کے معنی زمانے کے ساتھ بدلتے نہیں لیکن تخلیق کی نوعیت حر کی ہے، زمانے کے ساتھ اس کے معنی اور معنویت دونوں بدل سکتے ہیں، لہٰذا تنقید ایک محدود کارگذاری ہے، چاہے اس میں کتنی ہی چمک دمک کیوں نہ ہو اور چاہے اس کے بارے میں کتنے ہی جلسے کیوں نہ منعقد ہوں اور کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کئے جائیں!
بے تکلف ہو جانے کے بعد میں بہت کم پردے کا قائل ہوں لیکن بے تکلف ہونے میں مجھے خاصی دیر لگتی ہے۔
جو لوگ کہتے ہیں شمس الرحمن فاروقی سماجی عناصر اور سماجی شعور کے عناصر کو ادب سے خارج کرنا چاہتے ہیں ان لوگوں نے در اصل مجھے پڑھا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ میں تو ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آرہا ہوں کہ میں تو ادب کی خود مختاری اور ادیب کی آزادی کا قائل ہوں۔ جب میں ادیب کی آزادی کا قائل ہوں تو اس لیے یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ تم یہ نہ لکھو اور اور وہ نہ لکھو۔
شعر اس لئے برتر ہے کہ وہ زبان کا بہتر، زیادہ حساس اور نوکیلا استعمال کرتا ہے۔
ادیب کو کسی سیاسی یا غیر ادبی نظریے کا پابند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایسی پابندی اظہار کی آزادی کی راہیں روک دیتی ہے۔
ادب زندگی کا اظہار کرتا ہے اور زندگی کا ایک عمل ہے۔ اس کے لیے یہ اعلان کرنا ضروری نہیں کہ ادب کا تعلق زندگی سے ہے۔
ادب کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھانا اور منطقی ربط کے ساتھ ان کا جواب دینا نقاد کا پہلا کام ہونا چاہیے۔
فن پارے کی کوئی تعبیر حتمی اور آخری نہیں ہوتی، لہٰذا کوئی تنقید حرف آخر نہیں ہو سکتی۔
اپنے ہم عصروں میں مجھے وہی لوگ زیادہ اچھے لگے جن کے لیے ادب سازشوں کا کھیل نہیں بلکہ زندگی سے بھی ماوراء ایک حقیقت ہے۔
شعر کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ زندگی سے اپنے تعلق یا اپنے انسان پن کو ثابت کرنے کے لیے سڑک پر جاکر جھنڈا اٹھائے اور نعرہ لگائے۔
ترقی پسندوں نے غزل کو سامراجی نظام کی یادگار کہہ کر اس لئے برادری سے باہر کرنے کی کوشش کی کہ انہیں خوف تھا کہ اگر اس سخت جان لونڈیا کو گھر میں گھسنے دیا گیا تو اچھا نہ ہوگا۔
رسم الخط وہ چیز ہوتی ہے جو آسانی یا کسی اور وجہ سے مروج ہونے کی بنا پر اڈوپٹ کر لیا جاتا ہے۔ زبان کی جان اس میں نہیں ہوتی۔
فکشن نگار کی حیثیت سے میرا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ میں اپنے کردار یا وقوعے کو جیسا بنانا چاہتا ہوں، ہمیشہ ویسا بنتا نہیں ہے۔ میرے سامنے سامع بھی نہیں ہے جس کے دباؤ کے تحت میں کردار اور واقعے کو آزاد نہ ہونے دوں۔ اس طرح متضاد سی صورت حال بنتی ہے کہ میں اپنے فکشن کا خالق ہوں بھی اور نہیں بھی ہوں۔۔۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
