- کتاب فہرست 180730
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ923 تعلیم347 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4282 سیاسی349 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6692افسانہ2672 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4189-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد60
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4875
- مرثیہ386
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت591
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
شوکت تھانوی کے قصے
بے وقوف کی پہچان
ایک ناشر نے کتابوں کے نئے گاہک سے شوکت تھانوی کا تعارف کراتے ہوئے کہا، ’’آپ جس شخص کا ناول خرید رہے ہیں وہ یہی ذات شریف ہیں لیکن یہ چہرے سے جتنے بیوقوف معلوم ہوتے ہیں اتنے ہیں نہیں۔‘‘ شوکت تھانوی نے فوراً کہا، ’’جناب مجھ میں اور میرے ناشر میں یہی
بے وفا کے کوچے میں
نوعمر ی کے زمانے میں شوکت تھانوی نے ایک غزل کہی اور بڑی دوڑ دھوپ کے بعد ماہنامہ ’’ترچھی نظر‘‘ میں چھپوانے میں کامیاب ہوگئے۔ غزل کا ایک شعر تھا، ہمیشہ غیر کی عزت تری محفل میں ہوتی ہے ترے کوچے میں جاکر ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں شوکت تھانوی کے والد
واہ! آپ کی تو بیوی ہے
شوکت تھانوی باغ و بہار طبیعت کے مالک تھے۔ ایک بار بیوی کے ساتھ کراچی جارہے تھے۔ جس ڈبہ میں ان کی سیٹ تھی وہ نچلی تھی۔ اوپر کی سیٹ پرایک موٹے تازے آدمی براجمان تھے۔ شوکت صاحب نے اٹھ کر انہیں غور سے دیکھا پھر چھت کی طرف دیکھ کر کہا، ’’سبحان اللہ قدرت۔‘‘
ملک الموت کی عنایت
ایک دفعہ شوکت تھانوی سخت بیمار پڑے۔ یہاں تک کہ ان کے سر کے سارے بال جھڑگئے۔ دوست احباب ان کی عیادت کو پہنچے اور بات چیت کے دوران ان کے گنجے سر کو بھی دیکھتے رہے۔ سب کو متعجب دیکھ کر شوکت تھانوی بولے، ’’ملک الموت آئے تھے۔ صورت دیکھ کر ترس آگیا۔ بس
بارہ سنگھا
پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ایس۔ پی سنگھا کے گیارہ بچوں کے نام کا آخری جز ’’سنگھا‘‘ تھا۔ جب ان کے بارہواں لڑکا پیدا ہوا تو شوکت تھانوی سے مشورہ کیا کہ اس کا کیا نام رکھوں۔ اس پر شوکت صاحب نے بے ساختہ کہا، ’’آپ اس کا نام ’’بارہ سنگھا‘‘ رکھ دیجئے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
