- کتاب فہرست 180601
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
ڈرامہ918 تعلیم342 مضامين و خاكه1364 قصہ / داستان1600 صحت107 تاریخ3268طنز و مزاح593 صحافت200 زبان و ادب1612 خطوط727
طرز زندگی30 طب972 تحریکات267 ناول4274 سیاسی349 مذہبیات4762 تحقیق و تنقید6522افسانہ2667 خاکے/ قلمی چہرے232 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب423 ترجمہ4190خواتین کی تحریریں5753-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1248
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1259
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1581
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت589
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
شورش کاشمیری کا تعارف
شناخت: صاحب اسلوب ادیب، ممتاز صحافی، انقلابی خطیب، شاعر اور سیاسی رہنما
آغا شورش کاشمیری، جن کا اصل نام عبد الکریم تھا، 14 اگست 1917ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔ ان کے پردادا سری نگر سے ہجرت کر کے امرتسر آئے، پھر ان کے دادا نے لاہور کو مستقل مسکن بنا لیا۔
شورش کاشمیری برصغیر کے اُن نابغۂ روزگار اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے صحافت، خطابت، سیاست اور ادب کے میدان میں غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ اپنے ولولہ انگیز خطیبانہ انداز، بے باک صحافت اور انقلابی سیاسی فکر کے باعث وہ اپنے عہد کی نمایاں ترین شخصیات میں شمار کیے جاتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم میٹرک تک حاصل کی، مگر اپنی غیر معمولی ذہانت، مطالعے اور ذاتی محنت کے بل پر علمی و ادبی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی فکری و سیاسی تربیت میں مولانا ظفر علی خان کا خاص اثر رہا۔ صحافت میں ان کا رنگ اختیار کیا۔ انہوں نے سیّدعطاءاللہ شاہ بخاری اور مولانا ابوالکلام آزاد سے بھی کسب فیض کیا۔
آغا شورش کاشمیری مجلسِ احرارِ اسلام کے اہم رہنماؤں میں شامل ہوئے اور 1946ء میں اس کے سیکرٹری جنرل منتخب کیے گئے۔ اگرچہ وہ تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کے ساتھ نہیں تھے، تاہم قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ملکی سیاست، جمہوری اقدار، آئین سازی اور نظریاتی مباحث میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1974ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں ان کی جدوجہد خاص طور پر نمایاں رہی۔
صحافت کے میدان میں ان کا رسالہ "چٹان" اردو صحافت کی تاریخ میں ایک جری، فکری اور اثر انگیز جریدے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی تحریر میں بے باکی، طنز، تاریخی شعور اور خطیبانہ بانکپن نمایاں تھا۔ بطور خطیب ان کا شمار برصغیر کے عظیم ترین مقررین میں ہوتا ہے اور ان کے خطابات سامعین کو مسحور کر دیتے تھے۔
ان کی اہم تصانیف میں فیضانِ اقبال، چہرے، قلمی چہرے، فنِ خطابت، تحریک ختم نبوت، اس بازار میں، پس دیوار زنداں، بوئے گل نالہ دل، دود چراغ محفل (خودنوشت سوانح) ابوالکلام آزاد، مولانا ظفر علی خان، قیدِ فرنگ، دہلی چلو، اقبال اور قادیانیت اور خطباتِ احرار شامل ہیں۔
اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران انہوں نے تقریباً ساڑھے بارہ سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر اپنے نظریات سے پیچھے نہ ہٹے۔
وفات: 25 اکتوبر 1975ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Agha_Shorish_Kashmiri
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1981
-
