Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سراج الدین ندوی

1952

ایک ممتاز عالمِ دین اور ادیب

ایک ممتاز عالمِ دین اور ادیب

سراج الدین ندوی کا تعارف

پیدائش :بجنور, اتر پردیش

شناخت:مولانا سراج الدین ندوی ایک ممتاز عالمِ دین، مدرس، ادیب اور سماجی مصلح ہیں، جو جماعت اسلامی ہند سے وابستہ رہے ہیں۔

مولانا سراج الدین ندوی 1952ء میں ضلع بجنور (اتر پردیش) کے گاؤں سرکڑہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے سرکاری اسکول میں حاصل کی، پھر مدرسہ احیاء العلوم میں دینی تعلیم پائی، جہاں مولانا حکیم اشرف علی قاسمی سے استفادہ کیا۔ 1967ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخلہ لیا اور 1972ء میں سندِ عالمیت حاصل کی۔ بعد ازاں جامعہ اردو علی گڑھ سے ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل کی اسناد حاصل کیں اور 1986ء میں اردو میں ایم اے کیا۔ 2022ء میں کامن ویلتھ ووکیشنل یونیورسٹی، بنکاک نے آپ کو اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔

عملی زندگی کا آغاز احمد آباد میں جماعت اسلامی کے دفتر سے ہوا۔ بعد میں سہارن پور، رام پور اور بجنور کے مختلف اداروں میں تدریسی و انتظامی خدمات انجام دیں۔ تاج العلوم، تاج پور کو جامعۃ الفیصل کی صورت میں منظم و ترقی یافتہ ادارہ بنانا آپ کی نمایاں کامیابی ہے۔ آج آپ متعدد تعلیمی اداروں کے بانی و سرپرست ہیں۔

آپ نے اپنے علمی سفر میں کئی اکابر سے استفادہ کیا، جن میں خصوصاً سید ابو الحسن علی ندوی اور دیگر نامور علما شامل ہیں۔ ان حضرات کی صحبت نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

مولانا سراج الدین ندوی کی تصانیف میں دینی تربیت، اصلاحِ معاشرہ اور فکری رہنمائی کے پہلو نمایاں ہیں۔ ان کی معروف کتابوں میں بچوں کی تربیت، عبادت (فضائل و مسائل)، کردار کے غازی، میرے مربی میرے محسن، محبتیں الفتیں، مسلمان اور سائنس، رسولِ خدا کا طریقۂ تربیت اور تحفۃ النحو و تحفۃ الصرف شامل ہیں۔

آپ کی تحریر سادہ، پُراثر اور مقصدیت سے بھرپور ہے۔ علم و عمل، تدریس و تربیت اور خدمتِ دین آپ کی زندگی کا محور ہیں، اور آپ کی خدمات نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے