- کتاب فہرست 180736
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
ڈرامہ914 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1569 صحت104 تاریخ3289طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1695 خطوط738
طرز زندگی30 طب973 تحریکات270 ناول4268 سیاسی351 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6521افسانہ2668 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب434 ترجمہ4223خواتین کی تحریریں5770-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1256
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1585
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت587
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سید عابد حسین کا تعارف
شناخت: ممتاز دانشور، فلسفی، مترجم، ماہرِ تعلیم اور صحافی
سید عابد حسین بیسویں صدی کے اُن ممتاز ہندوستانی دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فلسفہ، تعلیم، ترجمہ، تہذیبی مطالعے اور ادبی صحافت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ درویشانہ انکسار، فکری سنجیدگی اور علمی دیانت ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ وہ ان مفکرین میں تھے جنہوں نے جدید تعلیم، ہندوستانی تہذیب اور قومی شناخت کے مباحث کو سنجیدہ علمی بنیاد فراہم کی۔
سید عابد حسین 25 جولائی 1896ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق ضلع قنوج کے گاؤں داعی پور سے تھا۔ ان کے جدِ امجد سید حسن بندگی ترمذ سے ہندوستان آئے تھے اور داعی پور میں قیام کیا تھا۔ والد سید حامد حسین ریاست بھوپال کی ملازمت سے وابستہ تھے۔ ابتدائی تعلیم غیر منظم رہی، کچھ عرصہ بھوپال کے جہانگیریہ اسکول میں پڑھے، پھر 1912ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے اول درجے میں ہائی اسکول پاس کیا۔ انٹر سائنس سے کیا مگر رجحان فلسفے کی طرف رہا۔ بی اے میں فلسفہ، انگریزی اور فارسی لے کر نمایاں کامیابی حاصل کی اور 1919ء میں یونیورسٹی میں اول آئے۔
ایم اے فلسفہ کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر سیاسی حالات کے باعث تعلیم متاثر ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے، مالی مشکلات کے سبب جرمنی منتقل ہوئے جہاں تعلیم نسبتاً سستی تھی۔ والد نے وظیفہ بحال کرایا۔ جرمنی میں ان کی رفاقت ڈاکٹر ذاکر حسین اور محمد مجیب سے رہی۔ 1925ء میں برلن یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی۔ مقالے کا موضوع تھا: “Herbert Spencer’s Theory of Education in the Light of His Philosophy.”
جرمنی میں قیام کے دوران حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر انصاری کی ترغیب پر تینوں دوستوں نے 1926ء میں وطن واپس آکر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی خدمت قبول کی۔ یہ تینوں “ارکانِ ثلاثۂ جامعہ” کہلاتے ہیں۔ عابد حسین جامعہ میں اردو اور انگریزی پڑھاتے رہے، جامعہ کالج کے پرنسپل اور خازن بھی رہے۔ رسالہ جامعہ کے مدیر اور بچوں کے رسالے پیامِ تعلیم کے بانی و مدیر تھے۔
ان کا اصل میدان فلسفہ تھا مگر تہذیبی تاریخ، خصوصاً ہندوستانی تہذیب سے گہری دلچسپی تھی۔ جرمن زبان پر غیر معمولی عبور رکھتے تھے، انگریزی میں مہارت اور فارسی سے واقفیت تھی۔ اردو سے محبت کو وہ ہندوستانی تہذیب سے محبت قرار دیتے تھے۔
ترجمہ ان کا سب سے بڑا میدان تھا۔ وہ اردو کے صفِ اوّل کے مترجم مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً چوبیس اہم کتابوں کے تراجم کیے۔ نمایاں تراجم میں شامل ہیں: تلاشِ ہند (نہرو کی Discovery of India)، مکالماتِ افلاطون، گوئٹے کا فاؤسٹ اور ولہیم مائسٹر، ٹیگور کا چوکھر بالی (کلموہی)، گاندھی کی خودنوشت تلاشِ حق، نہرو کی خودنوشت میری کہانی، برنارڈ شا کی سینٹ جون، ذاکر حسین کی تعلیمی تحریروں کے تراجم۔۔۔
انہوں نے اردو اسٹینڈرڈ ڈکشنری (مرتبہ مولوی عبدالحق) کی نظرِ ثانی کا بڑا کام انجام دیا۔ ہفت روزہ نئی روشنی اور رسالہ اسلام اور عصر جدید کے بانی و مدیر رہے۔ سات برس آل انڈیا ریڈیو میں اردو کے ادبی صلاح کار رہے۔ لینگویج کمیشن میں اردو نمائندے کی حیثیت سے شامل رہے۔
ان کی اہم تصانیف میں شامل ہیں: قومی تہذیب کا مسئلہ، ہندوستانی قومیت اور قومی تہذیب، مسلمان اور جامعہ ملیہ، مضامینِ عابد، پردۂ غفلت (ڈرامہ)، شریر لڑکا (ڈرامہ)، بزمِ بے تکلف، ہندوستانی مسلمان آئینۂ ایام میں، گاندھی اور نہرو کی راہ۔
1933 ان کی شادی خواجہ غلام السیدین کی بیٹی، مولانا حالی کی پرنواسی مصداق فاطمہ سے ہوئی جو صالحہ عابد حیسن کے نام سے مشہور ہیں اورناول نگاری اور تحقیق میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ ان کی پہلی شادی زمانہ طالب علمی میں ہی اپنی عم زاد بہن سے ہوگئ تھی جو چل نہیں سکی۔
انہیں 1957ء میں پدم بھوشن اور دہلی سرکار کا سرسوتی سمان ملا۔
وفات: 13 دسمبر 1978 کو دہلی میں انتقال ہوا۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1983
-
