Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سید عابد حسین

1896 - 1978 | دلی, انڈیا

ممتاز دانشور، فلسفی، مترجم، ماہرِ تعلیم اور صحافی

ممتاز دانشور، فلسفی، مترجم، ماہرِ تعلیم اور صحافی

سید عابد حسین کا تعارف

اصلی نام : عابد حسین

پیدائش : 25 Jul 1896 | قنوج, اتر پردیش

وفات : دلی, انڈیا

Awards : ساہتیہ اکادمی ایوارڈ(1956)

شناخت: ممتاز دانشور، فلسفی، مترجم، ماہرِ تعلیم اور صحافی

سید عابد حسین بیسویں صدی کے اُن ممتاز ہندوستانی دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فلسفہ، تعلیم، ترجمہ، تہذیبی مطالعے اور ادبی صحافت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ درویشانہ انکسار، فکری سنجیدگی اور علمی دیانت ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ وہ ان مفکرین میں تھے جنہوں نے جدید تعلیم، ہندوستانی تہذیب اور قومی شناخت کے مباحث کو سنجیدہ علمی بنیاد فراہم کی۔

سید عابد حسین 25 جولائی 1896ء کو بھوپال میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق ضلع قنوج کے گاؤں داعی پور سے تھا۔ ان کے جدِ امجد سید حسن بندگی ترمذ سے ہندوستان آئے تھے اور داعی پور میں قیام کیا تھا۔ والد سید حامد حسین ریاست بھوپال کی ملازمت سے وابستہ تھے۔ ابتدائی تعلیم غیر منظم رہی، کچھ عرصہ بھوپال کے جہانگیریہ اسکول میں پڑھے، پھر 1912ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے اول درجے میں ہائی اسکول پاس کیا۔ انٹر سائنس سے کیا مگر رجحان فلسفے کی طرف رہا۔ بی اے میں فلسفہ، انگریزی اور فارسی لے کر نمایاں کامیابی حاصل کی اور 1919ء میں یونیورسٹی میں اول آئے۔

ایم اے فلسفہ کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر سیاسی حالات کے باعث تعلیم متاثر ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان گئے، مالی مشکلات کے سبب جرمنی منتقل ہوئے جہاں تعلیم نسبتاً سستی تھی۔ والد نے وظیفہ بحال کرایا۔ جرمنی میں ان کی رفاقت ڈاکٹر ذاکر حسین اور محمد مجیب سے رہی۔ 1925ء میں برلن یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی۔ مقالے کا موضوع تھا: “Herbert Spencer’s Theory of Education in the Light of His Philosophy.”

جرمنی میں قیام کے دوران حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر انصاری کی ترغیب پر تینوں دوستوں نے 1926ء میں وطن واپس آکر جامعہ ملیہ اسلامیہ کی خدمت قبول کی۔ یہ تینوں “ارکانِ ثلاثۂ جامعہ” کہلاتے ہیں۔ عابد حسین جامعہ میں اردو اور انگریزی پڑھاتے رہے، جامعہ کالج کے پرنسپل اور خازن بھی رہے۔ رسالہ جامعہ کے مدیر اور بچوں کے رسالے پیامِ تعلیم کے بانی و مدیر تھے۔

ان کا اصل میدان فلسفہ تھا مگر تہذیبی تاریخ، خصوصاً ہندوستانی تہذیب سے گہری دلچسپی تھی۔ جرمن زبان پر غیر معمولی عبور رکھتے تھے، انگریزی میں مہارت اور فارسی سے واقفیت تھی۔ اردو سے محبت کو وہ ہندوستانی تہذیب سے محبت قرار دیتے تھے۔

ترجمہ ان کا سب سے بڑا میدان تھا۔ وہ اردو کے صفِ اوّل کے مترجم مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً چوبیس اہم کتابوں کے تراجم کیے۔ نمایاں تراجم میں شامل ہیں: تلاشِ ہند (نہرو کی Discovery of India)، مکالماتِ افلاطون، گوئٹے کا فاؤسٹ اور ولہیم مائسٹر، ٹیگور کا چوکھر بالی (کلموہی)، گاندھی کی خودنوشت تلاشِ حق، نہرو کی خودنوشت میری کہانی، برنارڈ شا کی سینٹ جون، ذاکر حسین کی تعلیمی تحریروں کے تراجم۔۔۔

انہوں نے اردو اسٹینڈرڈ ڈکشنری (مرتبہ مولوی عبدالحق) کی نظرِ ثانی کا بڑا کام انجام دیا۔ ہفت روزہ نئی روشنی اور رسالہ اسلام اور عصر جدید کے بانی و مدیر رہے۔ سات برس آل انڈیا ریڈیو میں اردو کے ادبی صلاح کار رہے۔ لینگویج کمیشن میں اردو نمائندے کی حیثیت سے شامل رہے۔

ان کی اہم تصانیف میں شامل ہیں: قومی تہذیب کا مسئلہ، ہندوستانی قومیت اور قومی تہذیب، مسلمان اور جامعہ ملیہ، مضامینِ عابد، پردۂ غفلت (ڈرامہ)، شریر لڑکا (ڈرامہ)، بزمِ بے تکلف، ہندوستانی مسلمان آئینۂ ایام میں، گاندھی اور نہرو کی راہ۔

1933 ان کی شادی خواجہ غلام السیدین کی بیٹی، مولانا حالی کی پرنواسی مصداق فاطمہ سے ہوئی جو صالحہ عابد حیسن کے نام سے مشہور ہیں اورناول نگاری اور تحقیق میں ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہیں۔ ان کی پہلی شادی زمانہ طالب علمی میں ہی اپنی عم زاد بہن سے ہوگئ تھی جو چل نہیں سکی۔

انہیں 1957ء میں پدم بھوشن اور دہلی سرکار کا سرسوتی سمان ملا۔

وفات: 13 دسمبر  1978 کو دہلی میں انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے