Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

سید ہاشمی فریدآبادی

1890 - 1964 | لاہور, پاکستان

دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ کے اولین مترجم، مورخ اور شاعر

دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ کے اولین مترجم، مورخ اور شاعر

سید ہاشمی فریدآبادی کا تعارف

تخلص : 'سید ہاشمی فریدآبادی'

اصلی نام : ہاشم علی

پیدائش : 30 Jan 1890 | فریدآباد, ہریانہ

وفات : 19 Jul 1964 | لاہور, پنجاب

LCCN :n82047011

شناخت: برصغیر کے نامور مورخ، مترجم، شاعر اور انجمن ترقی اردو کے فعال رکن

سید ہاشمی فرید آبادی 30 جنوری 1890ء میں دہلی کے مضافاتی قصبہ فرید آباد کے ایک معزز سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نواب سید احمد شفیع دہلی کے عمائدین میں شمار ہوتے تھے، جبکہ والدہ ریاست لوہارو کے والی نواب علائی کی صاحبزادی تھیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ قیامِ علی گڑھ کے دوران بلقان کی جنگ کے موقع پر انہوں نے پرجوش نظمیں لکھیں، جن میں سے ’’بلقان چل، بلقان چل‘‘ بے حد مقبول ہوئی۔ اسی سیاسی و قومی سرگرمی کی پاداش میں انہیں کالج سے نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے خود کو اردو ادب کے لیے وقف کر دیا۔

ہاشمی صاحب نے 1917ء میں ریاست حیدرآباد میں ملازمت اختیار کی۔ وہ دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ کے ان اولین چھ مترجمین میں شامل تھے جن کا تقرر تاریخ کے شعبے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نے دارالترجمہ میں 17 سال (1917ء تا 1934ء) بطور مترجم خدمات انجام دیں اور اس دوران کئی کتابوں کے تراجم اور کتابیں تالیف کیں۔ وہ کتابوں کی تعداد کے لحاظ سے دارالترجمہ کے دوسرے بڑے مترجم تسلیم کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں وہ اسسٹنٹ سکریٹری (امورِ داخلہ و عدلیہ) کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

مولوی عبدالحق (بابائے اردو) سے ان کی رفاقت 40 سال پر محیط تھی۔ انہوں نے انجمن کے لیے اورنگ آباد، دہلی اور تقسیمِ ہند کے بعد کراچی میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ وہ انجمن کے شریک معتمد، رسالہ ’اردو‘ کے مدیر اور ’قومی زبان‘ کے نگراں رہے۔ ہاشمی صاحب مولوی عبدالحق کے اس حد تک دستِ راست تھے کہ بابائے اردو ان کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ تاہم، زندگی کے آخری برسوں میں بعض وجوہات کے باعث مولوی صاحب ان سے بدظن ہو گئے، جس پر ہاشمی صاحب خاموشی سے لاہور منتقل ہو گئے۔

ہاشمی فرید آبادی ایک صاحبِ طرز انشا پرداز اور مورخ تھے۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

تاریخ مسلمانانِ پاکستان و بھارت: دو جلدوں پر مشتمل یہ کتاب نصاب کا حصہ بنی

تاریخ ملتِ عربی: فلپ ہٹی کی مشہور کتاب "History of the Arabs" کا بہترین اردو ترجمہ

پنجاہ سالہ تاریخ انجمن ترقی اردو: انجمن کی پچاس سالہ علمی و ادبی جدوجہد کی مکمل روداد

مآثرِ لاہور: لاہور کے آثارِ قدیمہ پر ایک مستند کتاب

سہ نظمِ ہاشمی: ان کا مختصر شعری مجموعہ

ہاشمی صاحب عزلت پسند اور شہرت سے دور رہنے والے انسان تھے۔ ان کی گفتگو عالمانہ اور دلکش ہوتی تھی۔ لاہور منتقلی کے بعد وہ پنجاب یونیورسٹی کے 'دائرہ معارفِ اسلامیہ' اور 'ادارہ ثقافتِ اسلامیہ' سے وابستہ رہے۔

وفات: 19 جولائی 1964ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے