- کتاب فہرست 180366
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
سید مظفر حسین برنی کا تعارف
سید مظفر حسین برنی (14 اگست 1923ء – 7 فروری 2014ء) ہندوستان کے ممتاز سول افسر، ادیب، محقق اور اقبالیات کے معروف مصنف تھے۔ وہ 14 اگست 1923ء کو بلند شہر، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے زمانے میں بھی ان کی علمی و ادبی صلاحیتیں نمایاں تھیں اور اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی۔
سید مظفر حسین برنی نے ہندوستانی انتظامیہ میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ ریاستی حکومت میں متعدد اعلیٰ مناصب پر فائز رہے اور اپنی انتظامی صلاحیتوں کے باعث اہم ذمہ داریاں سنبھالتے رہے۔ بعد ازاں وہ مختلف ریاستوں کے گورنر بھی مقرر ہوئے۔ ان کی سرکاری خدمات کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ علمی اور ادبی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھا۔
ادب اور تحقیق سے ان کی خصوصی وابستگی تھی اور علامہ اقبال کی شخصیت، فکر اور شاعری ان کی علمی دلچسپی کا اہم موضوع رہی۔ انہوں نے اقبال کے حوالے سے متعدد کتابیں اور تحقیقی مضامین تحریر کیے۔ ان کی معروف تصانیف میں "اقبال: شاعرِ وطن"، "اقبال اور قومی یکجہتی" اور اقبال سے متعلق دیگر تحقیقی و تنقیدی کام شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں اقبال کے افکار، قومی یکجہتی، ہندوستانی تہذیب اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے موضوعات نمایاں ہیں۔
وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے چانسلر بھی رہے۔ علمی و ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف قومی اور سماجی اداروں میں بھی اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔ ان کی شخصیت میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر، صاحبِ مطالعہ ادیب اور سنجیدہ محقق کی خوبیاں یکجا تھیں۔
7 فروری 2014ء کو نئی دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی ادبی و علمی خدمات، بالخصوص اقبالیات کے میدان میں ان کی تحریری کاوشیں، اردو کے قارئین اور محققین کے لیے اہم سرمایہ ہیں۔
مددگار لنک : | https://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%85%D8%B8%D9%81%D8%B1_%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86_%D8%A8%D8%B1%D9%86%DB%8C
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
