- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
ڈرامہ926 تعلیم344 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3296طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط746
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4320 سیاسی354 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6625افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4255خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4882
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1210
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
ترنم ریاض کا تعارف
ترنم ریاض کو دو معنوں میں فوقیت حاصل ہے، ایک تو یہ کہ وہ ہم عصر خواتین افسانہ نگاروں میں ممتاز سمجھی جاتی ہیں اور دوئم یہ کہ نسائی ادب میں ان کی آواز بہت بلند تصور کی جاتی ہے۔ ان کی کہانیوں میں کشمیری معاشرت کی بہترین عکاسی ملتی ہے اور ساتھ ہی احتجاج کی ایک توانا زیریں لہر ان کے اسلوب کا خاصہ ہے۔ ان کی کہانی ’’شہر‘‘ نے انہیں شہرت دلائی اور اس کے بعد ان کے افسانے ’’دوسرا کنارہ‘‘ اور پھر ’’مجسمہ‘‘ وغیرہ نے انہیں ادب کے بڑے افق پر ابھارنے کا کام کیا۔ شادی کے بعد ان کی تحریروں میں مزید نکھار آگیا، اس میں پروفیسر ریاض پنجابی کی بڑی معاونت شامل رہی۔ کشمیر کا سماجی اور سیاسی منظر نامہ ترنم ریاض کی ذاتیات سے زیادہ مختلف نہیں تھا اور اس وجہ سے ان کی تحریر کی پختہ کاری مسائل و الم کا گنجینہ نظر آتی ہے۔ ایک طرف وادی کی معصوم فضا اور دوسری طرف سیاست کی مزموم ہوا۔ بچوں اور پرندوں سے ان کی والہانہ وابستگی رہی جس کے بارے میں ان کا نظریہ رہا کہ یہ دونوں بہت معصوم اور حد درجہ حساس مخلوق ہیں۔ بدلتے موسم ہوں یا حالات بچے اور پرندے ان سے بہت جلد اور زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ 2000ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘‘ شائع ہوا، اس کے علاوہ ’’یہ تنگ زمین‘‘ اور’’ رخت سفر‘‘ وغیرہ شائع ہوئے۔ انہوں نے ناول نگاری میں بھی اپنا جوہر دکھایا اور ’’برف آشنا پرندے‘‘ لکھ کر کشمیر اور کشمیریت پر گویا ایک دستاویز مرتب کردی۔ تنقیدی اور تاثراتی مضامین کا بھی ان کے پاس ایک بڑا سرمایہ موجود ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ نسائی ادب کی نمائندہ افسانہ نگاروں میں ترنم ریاض کا نام خصوصیت کا حامل ہے۔ والدین نے فریدہ ترنم نام دیا تھا لیکن پروفیسر ریاض پنجابی سے رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد وہ ترنم ریاض ہو گئیں۔ ان کی ولادت سری نگر، کشمیر کے ایک متمول اور بارسوخ گھرانے میں1960 میں ہوئی ۔ ان کے والد کو ادب کا ذوق تھا، شاعری کے علاوہ اچھے نثر نگار بھی تھے۔ گھر میں ادبی ماحول ہونے کے سبب ترنم ریاض کو ادب کی اچھی شد بد تھی۔ ترنم ریاض بچپن ہی سے آل انڈیا ریڈیو سے بطور چائلڈ آرٹسٹ وابستہ رہیں، اسی زمانے پریم چند کی کہانیوں سے متاثر ہوکر پہلی بار جب کہانی ’مصور‘ بچوں کے لئے تحریر کیا تو اسے بڑوں کے لئے ریڈیو پر پڑھوایا گیا۔ اس وقت ان کی عمر کوئی گیارہ برستھی۔ بعد میں وہ کہانی کشمیر کے معروف اخبار ’آفتاب‘ میں شائع ہوئی۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n98924179
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1988
-
