- کتاب فہرست 188710
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں70
ادب اطفال2074
ڈرامہ1034 تعلیم385 مضامين و خاكه1554 قصہ / داستان1770 صحت109 تاریخ3591طنز و مزاح759 صحافت217 زبان و ادب1986 خطوط823
طرز زندگی28 طب1047 تحریکات301 ناول5026 سیاسی374 مذہبیات5011 تحقیق و تنقید7420افسانہ3039 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل121 تصوف2294نصابی کتاب572 ترجمہ4592خواتین کی تحریریں6340-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1487
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1355
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1670
- کہہ مکرنی7
- کلیات710
- ماہیہ21
- مجموعہ5401
- مرثیہ404
- مثنوی895
- مسدس62
- نعت611
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت28
ترنم ریاض کا تعارف
ترنم ریاض کو دو معنوں میں فوقیت حاصل ہے، ایک تو یہ کہ وہ ہم عصر خواتین افسانہ نگاروں میں ممتاز سمجھی جاتی ہیں اور دوئم یہ کہ نسائی ادب میں ان کی آواز بہت بلند تصور کی جاتی ہے۔ ان کی کہانیوں میں کشمیری معاشرت کی بہترین عکاسی ملتی ہے اور ساتھ ہی احتجاج کی ایک توانا زیریں لہر ان کے اسلوب کا خاصہ ہے۔ ان کی کہانی ’’شہر‘‘ نے انہیں شہرت دلائی اور اس کے بعد ان کے افسانے ’’دوسرا کنارہ‘‘ اور پھر ’’مجسمہ‘‘ وغیرہ نے انہیں ادب کے بڑے افق پر ابھارنے کا کام کیا۔ شادی کے بعد ان کی تحریروں میں مزید نکھار آگیا، اس میں پروفیسر ریاض پنجابی کی بڑی معاونت شامل رہی۔ کشمیر کا سماجی اور سیاسی منظر نامہ ترنم ریاض کی ذاتیات سے زیادہ مختلف نہیں تھا اور اس وجہ سے ان کی تحریر کی پختہ کاری مسائل و الم کا گنجینہ نظر آتی ہے۔ ایک طرف وادی کی معصوم فضا اور دوسری طرف سیاست کی مزموم ہوا۔ بچوں اور پرندوں سے ان کی والہانہ وابستگی رہی جس کے بارے میں ان کا نظریہ رہا کہ یہ دونوں بہت معصوم اور حد درجہ حساس مخلوق ہیں۔ بدلتے موسم ہوں یا حالات بچے اور پرندے ان سے بہت جلد اور زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ 2000ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘‘ شائع ہوا، اس کے علاوہ ’’یہ تنگ زمین‘‘ اور’’ رخت سفر‘‘ وغیرہ شائع ہوئے۔ انہوں نے ناول نگاری میں بھی اپنا جوہر دکھایا اور ’’برف آشنا پرندے‘‘ لکھ کر کشمیر اور کشمیریت پر گویا ایک دستاویز مرتب کردی۔ تنقیدی اور تاثراتی مضامین کا بھی ان کے پاس ایک بڑا سرمایہ موجود ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ نسائی ادب کی نمائندہ افسانہ نگاروں میں ترنم ریاض کا نام خصوصیت کا حامل ہے۔ والدین نے فریدہ ترنم نام دیا تھا لیکن پروفیسر ریاض پنجابی سے رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد وہ ترنم ریاض ہو گئیں۔ ان کی ولادت سری نگر، کشمیر کے ایک متمول اور بارسوخ گھرانے میں1960 میں ہوئی ۔ ان کے والد کو ادب کا ذوق تھا، شاعری کے علاوہ اچھے نثر نگار بھی تھے۔ گھر میں ادبی ماحول ہونے کے سبب ترنم ریاض کو ادب کی اچھی شد بد تھی۔ ترنم ریاض بچپن ہی سے آل انڈیا ریڈیو سے بطور چائلڈ آرٹسٹ وابستہ رہیں، اسی زمانے پریم چند کی کہانیوں سے متاثر ہوکر پہلی بار جب کہانی ’مصور‘ بچوں کے لئے تحریر کیا تو اسے بڑوں کے لئے ریڈیو پر پڑھوایا گیا۔ اس وقت ان کی عمر کوئی گیارہ برستھی۔ بعد میں وہ کہانی کشمیر کے معروف اخبار ’آفتاب‘ میں شائع ہوئی۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n98924179
join rekhta family!
-
کارگزاریاں70
ادب اطفال2074
-
