- کتاب فہرست 180360
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ916 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1570 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح592 صحافت200 زبان و ادب1681 خطوط729
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4266 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6485افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2006نصابی کتاب424 ترجمہ4199خواتین کی تحریریں5756-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1256
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1576
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4864
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت587
- نظم1201
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ترنم ریاض کا تعارف
ترنم ریاض کو دو معنوں میں فوقیت حاصل ہے، ایک تو یہ کہ وہ ہم عصر خواتین افسانہ نگاروں میں ممتاز سمجھی جاتی ہیں اور دوئم یہ کہ نسائی ادب میں ان کی آواز بہت بلند تصور کی جاتی ہے۔ ان کی کہانیوں میں کشمیری معاشرت کی بہترین عکاسی ملتی ہے اور ساتھ ہی احتجاج کی ایک توانا زیریں لہر ان کے اسلوب کا خاصہ ہے۔ ان کی کہانی ’’شہر‘‘ نے انہیں شہرت دلائی اور اس کے بعد ان کے افسانے ’’دوسرا کنارہ‘‘ اور پھر ’’مجسمہ‘‘ وغیرہ نے انہیں ادب کے بڑے افق پر ابھارنے کا کام کیا۔ شادی کے بعد ان کی تحریروں میں مزید نکھار آگیا، اس میں پروفیسر ریاض پنجابی کی بڑی معاونت شامل رہی۔ کشمیر کا سماجی اور سیاسی منظر نامہ ترنم ریاض کی ذاتیات سے زیادہ مختلف نہیں تھا اور اس وجہ سے ان کی تحریر کی پختہ کاری مسائل و الم کا گنجینہ نظر آتی ہے۔ ایک طرف وادی کی معصوم فضا اور دوسری طرف سیاست کی مزموم ہوا۔ بچوں اور پرندوں سے ان کی والہانہ وابستگی رہی جس کے بارے میں ان کا نظریہ رہا کہ یہ دونوں بہت معصوم اور حد درجہ حساس مخلوق ہیں۔ بدلتے موسم ہوں یا حالات بچے اور پرندے ان سے بہت جلد اور زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ 2000ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘‘ شائع ہوا، اس کے علاوہ ’’یہ تنگ زمین‘‘ اور’’ رخت سفر‘‘ وغیرہ شائع ہوئے۔ انہوں نے ناول نگاری میں بھی اپنا جوہر دکھایا اور ’’برف آشنا پرندے‘‘ لکھ کر کشمیر اور کشمیریت پر گویا ایک دستاویز مرتب کردی۔ تنقیدی اور تاثراتی مضامین کا بھی ان کے پاس ایک بڑا سرمایہ موجود ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ نسائی ادب کی نمائندہ افسانہ نگاروں میں ترنم ریاض کا نام خصوصیت کا حامل ہے۔ والدین نے فریدہ ترنم نام دیا تھا لیکن پروفیسر ریاض پنجابی سے رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے کے بعد وہ ترنم ریاض ہو گئیں۔ ان کی ولادت سری نگر، کشمیر کے ایک متمول اور بارسوخ گھرانے میں1960 میں ہوئی ۔ ان کے والد کو ادب کا ذوق تھا، شاعری کے علاوہ اچھے نثر نگار بھی تھے۔ گھر میں ادبی ماحول ہونے کے سبب ترنم ریاض کو ادب کی اچھی شد بد تھی۔ ترنم ریاض بچپن ہی سے آل انڈیا ریڈیو سے بطور چائلڈ آرٹسٹ وابستہ رہیں، اسی زمانے پریم چند کی کہانیوں سے متاثر ہوکر پہلی بار جب کہانی ’مصور‘ بچوں کے لئے تحریر کیا تو اسے بڑوں کے لئے ریڈیو پر پڑھوایا گیا۔ اس وقت ان کی عمر کوئی گیارہ برستھی۔ بعد میں وہ کہانی کشمیر کے معروف اخبار ’آفتاب‘ میں شائع ہوئی۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n98924179
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
