- کتاب فہرست 179902
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4770 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے248 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4862
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
طارق چھتاری کا تعارف
اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اردو ادب میں جدیدیت کا آغاز تقریباً 60 کی دہائی سے ہوا۔ ترقی پسندی اور رجعت پسندی کا پیمانہ ابھی زیر بحث تھا، لوگ لکھتے گئے اور طے پایا کہ رجعت پسندی دراصل ترقی پسندی کا ردعمل نہیں، بلکہ سہل پسندی کا ایک نیا ورزن ہے۔ پھر رد وقبول کا سلسلہ اور اس کے بعد جدیدیت نے آخر نئی نسل کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ یہ ایسی سہل پسندی کے طور پر تسلیم ہوا جو انفراد کے سانچے میں ہوتے ہوئے اپنے سروکاروں اور ہیئت و جزئیات کی بدولت ایک نئے جہان اور نئے افق سے روشناس ہوا۔ طارق چھتاری کا شمار 70 کی دہائی کے بعد کے لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ اس عرصہ میں اردو افسانوی ادب میں بہت سی تبدیلیاں آئیں، مثلاً افسانہ نگاری کی جہتیں تبدیل ہونے لگیں، تجریدی افسانے کے نام پر علامتوں کااستعمال اور بیانیہ سے گریز کیا جانے لگا، افسانے کی اجزائے ترکیبی سے جزئیات و ہیئت عنقا ہونے لگی لیکن 70-80 کی دہائی میں افسانہ نگاری پھر اپنے کھوئے ہوئے جسم میں داخل ہونے لگی۔ اس وقت تک اردو تخلیقی ادب میں طارق چھتاری اپنی موجودگی درج کرا چکے تھے۔ ان کی پیدائش یکم اکتوبر 1954 کو چھتاری، ضلع بلند شہر میں یوپی میں ہوئی۔ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سے ایم اے (اردو) اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور آل انڈیا ریڈیو (گورکھپور) میں بطور پروگرام ایگز کیوٹیومقرر ہوئے، پھر 1989میں اردو سروس، نئی دہلی منتقل ہوگئے۔ بعد ازاں فروری 1993 میں مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں لکچرر مقرر ہوئے اور تاحال ریڈرشپ کے عہدے پر مامور ہیں۔
طارق چھتاری کی پہلی تصنیف ’’جدید افسانہ، اردو ہندی‘‘ہے جو 1992 میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا۔ اس کتاب کے موضوعات تجزیے و تحقیق پر مبنی ہیں۔ ہندی افسانہ نگاری کی سمت و رفتار پر ان کا بہت ہی محققانہ کام ہے اور اس طرح کتاب کی حیثیت دستاویزی ہو گئی ہے۔ اس کے بعد 2001 میں ان کا افسانوی مجموعہ ’’باغ کا دروازہ‘‘ سامنے آیا جس میں 19 افسانے ہیں۔ ہر افسانے میں زندگی ایک نئے تجربے سے گزرتی ہوئی معلوم پڑتی ہے۔ ان افسانوں میں ایک طرف ایلٹ گھرانے کی تصویر کشی ہے تو دوسری طرف دیہی زندگی کی برہنہ حقیقت بھی صاف نظر آتی ہے۔’’دس بیگھے کھیت، لکیر، صبح کاذب، کھوکھلا پہیا، آدھی سیڑھیاں‘‘ وغیرہ وہ کہانیاں ہیں جن میں گائوں اور قصبات کی زندگی کا بہت نزدیک سے مشاہدہ ملتا ہے۔ اسی طرح ’’باغ کا دروازہ، چابیاں، نیم پلیٹ‘‘ وغیرہ کچھ ایسی کہانیاں ہیں جن میں ماحولیات کے موافق نئے اور اچھوتے اصطلاحات وضع کیے گئے ہیں اور وہ کسی بھی طرح غیر مانوس نہیں لگتے۔ کردار کا انتخاب کہانی کی بنت اور ماحولیات کے موافق کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے وہ اس کردار سے پوری طرح واقف اورو شناشا ہیں۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89255007
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
