- کتاب فہرست 178284
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
ڈرامہ919 تعلیم344 مضامين و خاكه1379 قصہ / داستان1584 صحت105 تاریخ3279طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1705 خطوط738
طرز زندگی30 طب980 تحریکات272 ناول4300 سیاسی354 مذہبیات4755 تحقیق و تنقید6599افسانہ2680 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب451 ترجمہ4248خواتین کی تحریریں5831-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1278
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد52
- مزاحیہ31
- انتخاب1598
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4853
- مرثیہ386
- مثنوی746
- مسدس42
- نعت580
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
طارق چھتاری کا تعارف
اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اردو ادب میں جدیدیت کا آغاز تقریباً 60 کی دہائی سے ہوا۔ ترقی پسندی اور رجعت پسندی کا پیمانہ ابھی زیر بحث تھا، لوگ لکھتے گئے اور طے پایا کہ رجعت پسندی دراصل ترقی پسندی کا ردعمل نہیں، بلکہ سہل پسندی کا ایک نیا ورزن ہے۔ پھر رد وقبول کا سلسلہ اور اس کے بعد جدیدیت نے آخر نئی نسل کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ یہ ایسی سہل پسندی کے طور پر تسلیم ہوا جو انفراد کے سانچے میں ہوتے ہوئے اپنے سروکاروں اور ہیئت و جزئیات کی بدولت ایک نئے جہان اور نئے افق سے روشناس ہوا۔ طارق چھتاری کا شمار 70 کی دہائی کے بعد کے لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ اس عرصہ میں اردو افسانوی ادب میں بہت سی تبدیلیاں آئیں، مثلاً افسانہ نگاری کی جہتیں تبدیل ہونے لگیں، تجریدی افسانے کے نام پر علامتوں کااستعمال اور بیانیہ سے گریز کیا جانے لگا، افسانے کی اجزائے ترکیبی سے جزئیات و ہیئت عنقا ہونے لگی لیکن 70-80 کی دہائی میں افسانہ نگاری پھر اپنے کھوئے ہوئے جسم میں داخل ہونے لگی۔ اس وقت تک اردو تخلیقی ادب میں طارق چھتاری اپنی موجودگی درج کرا چکے تھے۔ ان کی پیدائش یکم اکتوبر 1954 کو چھتاری، ضلع بلند شہر میں یوپی میں ہوئی۔ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سے ایم اے (اردو) اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور آل انڈیا ریڈیو (گورکھپور) میں بطور پروگرام ایگز کیوٹیومقرر ہوئے، پھر 1989میں اردو سروس، نئی دہلی منتقل ہوگئے۔ بعد ازاں فروری 1993 میں مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں لکچرر مقرر ہوئے اور تاحال ریڈرشپ کے عہدے پر مامور ہیں۔
طارق چھتاری کی پہلی تصنیف ’’جدید افسانہ، اردو ہندی‘‘ہے جو 1992 میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا۔ اس کتاب کے موضوعات تجزیے و تحقیق پر مبنی ہیں۔ ہندی افسانہ نگاری کی سمت و رفتار پر ان کا بہت ہی محققانہ کام ہے اور اس طرح کتاب کی حیثیت دستاویزی ہو گئی ہے۔ اس کے بعد 2001 میں ان کا افسانوی مجموعہ ’’باغ کا دروازہ‘‘ سامنے آیا جس میں 19 افسانے ہیں۔ ہر افسانے میں زندگی ایک نئے تجربے سے گزرتی ہوئی معلوم پڑتی ہے۔ ان افسانوں میں ایک طرف ایلٹ گھرانے کی تصویر کشی ہے تو دوسری طرف دیہی زندگی کی برہنہ حقیقت بھی صاف نظر آتی ہے۔’’دس بیگھے کھیت، لکیر، صبح کاذب، کھوکھلا پہیا، آدھی سیڑھیاں‘‘ وغیرہ وہ کہانیاں ہیں جن میں گائوں اور قصبات کی زندگی کا بہت نزدیک سے مشاہدہ ملتا ہے۔ اسی طرح ’’باغ کا دروازہ، چابیاں، نیم پلیٹ‘‘ وغیرہ کچھ ایسی کہانیاں ہیں جن میں ماحولیات کے موافق نئے اور اچھوتے اصطلاحات وضع کیے گئے ہیں اور وہ کسی بھی طرح غیر مانوس نہیں لگتے۔ کردار کا انتخاب کہانی کی بنت اور ماحولیات کے موافق کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے وہ اس کردار سے پوری طرح واقف اورو شناشا ہیں۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n89255007
join rekhta family!
-
کارگزاریاں86
ادب اطفال1989
-
