- کتاب فہرست 179629
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4869
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
طارق چھتاری کے افسانے
باغ کا دروازہ
گرمیوں کی تاروں بھری رات نے گھر کے بڑے آنگن کو شبنم کے چھڑکائو سے ٹھنڈا کر دیا تھا۔ جیسے ہی دادی جان نے تسبیح تکیے کے نیچے رکھی نوروز کود کر ان کے پلنگ پر جا پہنچا۔ ’’دادی جان جب سبھی شہزادے باغ کی رکھوالی میں ناکام ہو گئے تو چھوٹے شہزادے نے بادشاہ
لکیر
آج سورج غروب ہونے سے پہلے بادلوں بھرے آسمان پر عجب طرح کا رنگ چھا گیا تھا۔ یہ رنگ سرخ بھی تھا اور زرد بھی۔ ان دونوں رنگوں نے آسمان کودرمیان سے تقسیم کر دیا تھا۔ جس مقام پر دونوں رنگ مل رہے تھے، وہاں ایک گہری لکیر دکھائی دیتی تھی۔ دھیان سے دیکھنے پر
نیم پلیٹ
’’کیا نام تھا اس کا؟ اف بالکل یاد نہیں آ رہا ہے۔‘‘ کیدارناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹاکر پھینک دیااور اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ’’یہ کیا ہوگیا ہے مجھے، ساری رات بیت گئی نیند ہی نہیں آ رہی ہے۔ ہوگا کچھ نام وام، نہیں یاد آتا تو کیا کروں، لیکن نام تو یاد
بندوق
شیخ سلیم الدین عشاء کی نماز کے بعد حویلی کے دالان میں بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ ان کابیٹا غلام حیدر بھی مونڈھا کھینچ کران کے پاس ہی آن بیٹھا۔ ’’ابا حضوران دنوں فضا ٹھیک نہیں ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ بازار میں کچھ مشکوک چہرے آپ کا تعاقب کرتے ہیں۔ وہ قصبے سے
آدھی سیڑھیاں
سعیدہ بیگم اپنے کمرے سے نکل کر دہرے دالان سے ہوتے ہوئے احمد کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ ’’اٹھ گئے بیٹے؟‘‘ ’’جی امی جان۔۔۔‘‘ احمد آنکھیں ملتا ہوا بستر سے اترکر کھڑا ہو گیا۔ ’’آفتابے میں گرم پانی رکھ دیا ہے، جائو منہ دھولو۔‘‘ احمد نے منہ دھو
آن بان
’’کیا؟ ہری سنگھ کی شادی ہو رہی ہے؟ ارے کسی نے یوں ہی اڑا دی ہوگی۔‘‘ ’’اجی نہ چودھری صاحب، بات سولہو آنہ پکی ہے۔‘‘سندر نے کہا۔ ’’مگر بھئی، یہ ہوا کیسے؟‘‘ ’’کان میں اڑتی اڑتی پڑی ہے کہ گھٹیا والے ننوانے بات لگائی ہے۔‘‘ سندر گردن کا میل چھڑاتے
شیشے کی کرچیں
وارڈ کے سب مریض گہری نیند سوتے رہے اوروہ صبح کے انتظار میں رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ صبح ہوتے ہی مریمؔ اپنی ٹیم کے ساتھ سفید ایپرن پہنے، گلے میں آلہ لٹکائے آہستہ سے آئے گی اور پوچھےگی۔ ’’کوئی پرابلم ؟‘‘ ’’جی نہیں ڈاکٹر۔۔۔‘‘وہ ہمیشہ یہی کہتا
غم سے نجات پائے کیوں
شکستہ دیوار و در، ہر سو بیاباں، قیامت خیز یہ منظر کہ بوسیدہ محراب کے نیچے شطرنجی بچھا کر مرزا نوشہ نے سیاہ مہروں کو بساط پر یوں سجایا گویا ان کی فتح لازم ہو اور مدِّ مقابل کی شکست ملزوم۔مرزا نے فرغل سمیٹا اور دوزانو بیٹھ کر پیادے کو ایک خانہ آگے بڑھا
تین سال
علی جان کو اپنے ماتھے پر بندھے سہرے کی لڑیاں لوہے کی زنجیروں سے بھی زیادہ وزنی اور خوفناک لگ رہی تھیں۔ وہ پھولوں میں منہ چھپائے کچھ اس طرح سہما ہوا بیٹھا تھا جیسے چڑیا کا بچہ سر پر باز کواڑتے دیکھ کر سہم جاتا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ مرزا مجید اپنے ساتھ
کھوکھلا پہیا
’’ہم تو خدا کے بنائے ہوئے پہیے ہیں، کھوکھلے پہیے۔۔۔ وہ جس طرح چاہتا ہے گھماتا ہے اور اگر ہم گھومنے سے انکار کریں۔۔۔ انکار؟ انکار کیسے کر سکتے ہیں، ہمیں تو گھومتے ہی رہنا ہے، کبھی مرضی سے اورکبھی مرضی کے بغیر۔‘‘ وہ ہر شام دھندے پر نکلنے سے پہلے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
