- کتاب فہرست 182645
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
ڈرامہ926 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1600 صحت105 تاریخ3299طنز و مزاح611 صحافت202 زبان و ادب1710 خطوط747
طرز زندگی30 طب983 تحریکات273 ناول4325 سیاسی354 مذہبیات4768 تحقیق و تنقید6626افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2040نصابی کتاب450 ترجمہ4259خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1285
- دوہا48
- رزمیہ102
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1602
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4884
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت585
- نظم1211
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اوپندر ناتھ اشک کا تعارف
اوپندر ناتھ اشکؔ شہر جالندھر میں 14 دسمبر 1910 کو پیدا ہوئے۔ ان کا نام پریم چند کے نامور معاصرین میں سے ایک ہے اور پریم چند سے خاص طور پر متاثر ہیں۔ ان کے افسانوں پر ایک لمبے عرصے تک ناصحانہ اور اخلاقی رنگ غالب رہا۔ پریم چند کے افسانوں میں بھی یہی صورت تھی۔ مگر وہ آخر خار اس سے باہر آئے لیکن اشکؔ ایک طویل عرصے تک اس سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔ اپنے ملک کی معاشرت پر وہ گہری نظر ڈالتے ہیں اور اس کی برائیوں پر ان کی نظر جم کر رہ جاتی ہے اور ان کے اصلاحی افسانے وجود میں آتے ہیں۔ اشکؔ کے موضوعات میں سیاست بھی داخل ہے لیکن یہاں بھی انداز اخلاقی اور اصلاحی ہے۔
اشکؔ نے ایک طویل مدت تک اپنے تمام تر وقت کو افسانہ نگاری پر صرف کیا۔ اس سے فن پر ان کی گرفت مضبوط ہوگئی اور زبان میں زیادہ روانی آگئی۔ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی منفرد اسلوب نہیں اور اردو افسانے پر وہ کوئی گہرا نقش نہیں چھوڑ سکے لیکن اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اپنے زرخیز قلم سے انہوں نے اردو افسانے کے ذخیرے میں بہت اضافہ کیا۔ ان کے مشہور افسانوی مجموعے ہیں، ڈاچی، کونپل، قفس، ناسور وغیرہ اور ان مجموعوں کے بیشتر افسانوں کو دلچسپی کے ساتھ پڑھا گیا۔ ان کا انتقال 2 نومبر 1982 کو ہوا۔موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n81058738
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1990
-
