Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
William Shakespeare's Photo'

ولیم شیکسپیئر

1564 - 1616 | انگلستان

انگریزی زبان و ادب کے معمار، عالمی شہرت یافتہ ڈرامہ نگار اور انسانی جذبات کے عظیم مصور

انگریزی زبان و ادب کے معمار، عالمی شہرت یافتہ ڈرامہ نگار اور انسانی جذبات کے عظیم مصور

ولیم شیکسپیئر کا تعارف

تخلص : 'شیکسپیر'

اصلی نام : ولیم شیکسپیر

پیدائش : 23 Apr 1564

وفات : 23 Apr 1616 | انگلستان

شناخت: عظیم انگریزی ڈرامہ نگار، شاعر اور اداکار، جنہیں دنیا کا سب سے بڑا ادیب اور “بارڈ آف ایون” کہا جاتا ہے۔

ولیم شیکسپیئر 23 اپریل 1564ء کو انگلینڈ کے تاریخی شہر Stratford-upon-Avon میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جان شیکسپیئر ایک باوقار شہری اور پیشے کے اعتبار سے دستکار تھے، جبکہ والدہ میری آرڈن ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ابتدائی تعلیم غالباً اسی شہر کے گرامر اسکول میں حاصل کی، جہاں انہیں لاطینی زبان اور کلاسیکی ادب سے شغف پیدا ہوا۔

کم عمری ہی میں، تقریباً اٹھارہ برس کی عمر میں، ان کی شادی این ہیتھاوے سے ہوئی، جن سے ان کے تین بچے ہوئے۔ جوانی کے ابتدائی برسوں کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئے، جہاں ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ انہوں نے تھیٹر کی دنیا میں بطور اداکار، مصنف اور شریکِ مالک کام کیا اور جلد ہی نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ وہ معروف تھیٹر کمپنی لارڈ چیمبرلینز مین (Lord Chamberlain's Men)  سے وابستہ رہے، جو بعد میں کنگز مین (King's Men) کے نام سے مشہور ہوئی۔ اسی کمپنی کے تحت لندن کے مشہور گلوب تھیٹر (Globe Theatre) میں ان کے ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔

شیکسپیئر کی ادبی خدمات نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہیں۔ انہوں نے تقریباً انتالیس ڈرامے، ایک سو چونتیس سونیٹس اور متعدد نظمیں تخلیق کیں۔ ان کے ڈرامے تقریبا ہر زبان میں ترجمہ ہو چکے ہیں اور آج بھی دنیا بھر کے تھیٹروں میں سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں۔ ان کی تصانیف میں المیہ، طربیہ، تاریخی اور رومانوی تمام اصناف شامل ہیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ہیملٹ (Hamlet)، میکبیتھ (Macbeth) ، او تھیلو (Othello)، کنگ لیئر (King Lear) اور دی ٹیمپیسٹ (The Tempest) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

شیکسپیئر کا اسلوب اپنی گہرائی، نفسیاتی بصیرت اور زبان کی جدت کے باعث منفرد ہے۔ انہوں نے انسانی جذبات، اقتدار، محبت، حسد اور اخلاقی کشمکش کو اس مہارت سے پیش کیا کہ ان کے کردار آج بھی زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی تحریروں نے نہ صرف انگریزی زبان کو نئی جہت دی بلکہ عالمی ادب کو بھی گہرے اثرات سے ہمکنار کیا۔

زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنے آبائی شہر اسٹریٹفورڈ واپس آ گئے اور نسبتاً گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

ولیم شیکسپیئر کی شخصیت اور فن کو دنیا بھر میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہیں انگریزی زبان کا سب سے بڑا ادیب اور عالمی ادب کا ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں مشہور ادیب بین جانسن نے بجا کہا تھا کہ وہ “اپنے زمانے کے نہیں بلکہ ہر زمانے کے لیے ہیں”۔

وفات: 23 اپریل 1616ء کو اپنے آبائی شہر اسٹریٹفورڈ میں ان کا انتقال ہوا اور انہیں ہولی ٹرینیٹی چرچ (Holy Trinity Church) میں سپرد خاک کیا گیا۔

نوٹ: ولیم شیکسپیئر کی صحیح تاریخِ پیدائش قطعی طور پر معلوم نہیں۔ تاریخی ریکارڈ میں صرف ان کی بپتسمہ (مسیحیت کی ایک بنیادی مذہبی رسم) کی تاریخ درج ہے، جو 26 اپریل 1564ء ہے۔ چونکہ اُس زمانے میں عموماً پیدائش کے چند دن بعد بپتسمہ کیا جاتا تھا، اس لیے محققین نے اندازہ لگایا کہ ان کی پیدائش 23 اپریل 1564ء کے قریب ہوئی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ 23 اپریل کو روایتی طور پر ان کی تاریخِ پیدائش مانا جاتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی تاریخ کو ان کی وفات بھی ہوئی۔

Recitation

بولیے