- کتاب فہرست 179629
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3318طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط744
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6665افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2065نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1611
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4868
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت579
- نظم1193
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ظفر علی خاں کا تعارف
ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے
مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے
ظفر علی خان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں ۔ وہ شاعر بھی تھے ،مدیر بھی اور آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی ۔ ان کی پیدائش 1873 میں قصبہ کوٹ مرتا ضلع سیالکوٹ میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم کرم آباد میں ہی حاصل کی اور اس کے بعد اینگلو محمڈن کالج علی گڑھ میں زیر تعلیم رہے ۔
مولانا ظفر علی خاں اس وقت کے مشہور روزنامے ’’ زمیندار‘‘ کے مدیر رہے ، اس اخبار نے اپنے وقت میں سیاسی ، سماجی اور تہذیبی مسائل ومعاملات کی عکاسی اور سماج کے ایک بڑے طبقے میں ان مسائل کے حوالے سے رائے سازی میں اہم کردار ادا کیا ۔ مولانا کا سیاسی مسلک گاندھی جی کی عدم تشدد کی حکمت عملی سے بہت مختلف تھا ، وہ برطانوی حکمرانوں سے براہ راست ٹکراؤ میں یقین رکھتے تھے ۔ تحریک آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں گورنر پنجاب سرمائیکل اوڈوائر کے دور میں انھیں پانچ سال کی قید بامشقت بھی برداشت کرنی پڑی ۔ خلافت تحریک سے بھی مولانا کی وابستگی بہت مظبوط تھی ۔
مولانا کی شاعری بھی ان کی اسی سیاسی اور سماجی جدوجہد کا ایک ذریعہ رہی ان کی نظموں کے موضوعات ان کے وقت کی اتھل پتھل کے ارد گرد گھومتے ہیں ۔ ان کی بیشتر نظمیں وقتی تقاضوں کے پیش نظر تخلیق کی گئی ہیں ۔
27 نومبر 1956 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا ۔
موضوعات
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
