Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک حماقت ایک شرارت

وقار محسن

ایک حماقت ایک شرارت

وقار محسن

MORE BYوقار محسن

    دلچسپ معلومات

    شرارت اور حماقت میں کون بازی لے گیا ۔ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے

    شرارت اور حماقت میں سے کون بازی لے گیا۔ اس کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔

    معلوم نہیں کہ بچپن کا دور ایسا ہی سہانا، حسین، دلفریب اور سنہرا ہوتا ہے یا وقت کی دبیز چادر کے جھروکے سے ایسا لگتا ہے۔ اب میرے سامنے میرے خاندان کی تیسری نسل کے شگوفے پروان چڑھ رہے ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آج کل کے بچوں کا بچپن اتنا پر رونق، رنگین اور پرجوش نہیں جیسا ہمارا بچپن تھا۔ دو تین گھنٹے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کارٹون دیکھنا، ویڈیو گیم۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ میں غرق بچوں کی دنیا ایک کمرہ تک محدود ہوتی ہے جبکہ ہمارے کھیلوں اور شرارتوں، کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اکثر ہمارے کھیلوں کے شور اور ہنگاموں سے گھر والے اور کبھی کبھی اہل محلہ بھی بھی عاجز رہتے تھے۔

    ہمارے بچپن کے محبوب کھیل آنکھ مچولی، چور سپاہی، اندھا بھینسا، اونچ نیچ اور کوڑا جمال شاہی ہوتے تھے۔جب کچھ اور بڑے ہوئے تو گلی ڈنڈا، کبڈی، گیند تڑی، گیندبلا، فٹ بال اور پتنگ بازی کی طرف راغب ہوئے۔ لو کے گرم تھپیڑوں اور دانت کٹکٹانے والی سردی میں بھی ہم اسی طرح ان کھیلوں میں محو رہتے۔

    یہ بھی درست ہے کہ دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق آج کے بچے ہمارے دور کے بچوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین، ذہنی طور سے پختہ، پور اعتماد ہیں۔ زندگی کے جو رموز ہم پر دس بارہ سال کی عمر میں کھلے آج پانچ چھ سال کے بچے ان حقائق سے آگاہ ہیں۔

    اپنے بچپن کا ایک واقعہ آپ کو سناتا ہوں جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ عموماً دس بارہ سال کی عمر میں بھی عام بچے کتے معصوم اور سادہ ہوتے تھے۔ آپ چاہیں تو بےوقوف کہہ لیں۔

    اس وقت شاید ہم آٹھویں کلاس میں تھے۔ اسکول سے گھر تک تین میل کا فاصلہ پیدل ہی طے کرنا ہوتا تھا۔ گرمیوں میں ہم دوکانوں کے سائبانوں اور درختوں کے سائے تلاش کرتے گھر کی سمت روانہ ہوتے۔ ایک دن ناولٹی ٹاکیز کے سامنے میدان میں املی کے دیو قامت درخت کے نیچے ایک مداری تماشا دکھا رہا تھا۔ بےشمار لوگ دائرے کی شکل میں کھڑے تماشے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہم بھی کچھ سستانے اور کچھ تماشے سے لطف اندوز ہونے کے لیے مجمع میں شامل ہوگئے اور آہستہ آہستہ جگہ بناتے ہوئے سب سے آگے پہنچ گئے۔

    مداری کا جمورہ زمین پر چادر اوڑھے لیٹا تھا اور مداری ایک روپے کے سکے کے دواور دو کے چار بنا رہا تھا اور ہم منہ کھولے حیرت زدہ کھڑے سوچ رہے تھے کہ کیسا احمق انسان ہے کہ ایسا ہنر رکھتے ہوئے گھر بیٹھے دولت کے انبار کیوں نہیں لگاتا اور کیوں یہاں گرمی میں ہلکان ہو رہا ہے۔اسی دوران مداری نے چیخ کر کہا۔ ’’آگے، آگے کا بچہ لوگ بیٹھ جاؤ۔ جو نہیں بیٹھے گا اس کا پیشاب بند ہو جائےگا۔‘‘

    ہم تماشہ میں اتنے محو تھے کہ ہم نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی۔ کچھ دیر بعد تماشا ختم ہو گیا اور ہم خراماں خراماں گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ گھر کے دروازہ پر پہنچ کر ہمیں اچانک مداری کی تنبیہہ کا خیال آیا۔ کیوں کہ ہم تو بیٹھے نہیں تھے اور اسی طرح کھڑے رہے تھے یہ سوچ کر ہم خوفزدہ ہو گئے اور ہمیں یقین ہو گیا کہ مداری کے جادو کا ہم پر اثر ہو گیا ہوگا۔ سیڑھیوں پر چڑھتے چڑھتے ہم نے مزید یقین کرنے کی کوشش کی کہ جادو کا اثر ہوا ہے یا نہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ نیکر کے گیلے پن کو دیکھ کر ہمارے ہوش اڑ گئے۔ کچھ دیر تو ہم دم بخود آخری سیڑھی پر کھڑے رہے پھر ادھر ادھر دیکھ کر جلدی سے غسل خانے میں گھس کر نہانے لگے تاکہ ہماری حماقت کا پول نہ کھلے۔

    اب ذرا ایک اور واقعہ سے آج کے دور کے بچے کی ذہانت اور ذہنی پختگی کا اندازہ کریں۔ کچھ عرصہ پیشتر میں لان میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا اور میرے چار سالہ پوتے ایان میری کرسی کے چاروں طرف اسکوٹی پر سوار چکر لگا رہے تھے تو میں نے ان کو اپنے پاس بلا کر کہا۔

    ’’بیٹا! اگر آپ مجھے پچاس تک گنتی سنادیں تو میں آپ کو پچاس روپیہ انعام دوں گا۔‘‘

    ایان نے فر فر گنتی سنادی اور پچاس روپیہ کا نوٹ جیب میں ٹھونس کر آئسکریم والے کو بلانے کے لئے گیٹ کی طرف گھوم گئے۔ کچھ سوچ کر وہ پھر واپس آئے اور کہنے لگے۔ کچھ سوچ کر وہ پھر واپس آئے اور کہنے لگے۔ ’’ویسے دادا پاپا بائی۔۔۔ دا وے۔۔۔ مجھے گنتی ہنڈرڈ تک آتی ہے۔ سناؤں؟‘‘

    بچپن کی یادوں کی کہکشاں سے ایک شرارت کا احوال بھی سن لیں۔

    ہمارے جگری دوستوں میں ایک یونس کپاڈیا تھے جن کو ہم پیار سے کباڑیا کہتے تھے کیوں کہ حلیہ سے وہ لگتے بھی ایسے ہی تھے۔ کباڑیا کا شمار محلے کے شریر ترین لڑکوں میں ہوتا تھا۔ وہ ہر روز کسی نئی شرارت کا پروگرام لے کر آتے اور کبھی کبھی ہم بھی ان کے ساتھ شامل ہو جاتے۔ اکثر وہ تو اپنی چالاکی کی وجہ سے بچ کر نکل جاتے اور ہم پھنس جاتے۔

    ایک بار ہمارا دل پلاؤ کھانے کے لئے بہت مچل رہا تھا۔ دبی دبی زبان سے اماں سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے خوب صورتی سے ٹال دیا۔ ایک دن دوپہر کو گلی ڈنڈا کھیلنے کے بعد ہم اور کباڑیا نیم کے نیچے بیٹھے سستا رہے تھے۔ جب ہم نے ان سے پلاؤ کھانے کی خواہش کا ذکر کیا۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں کچھ دیر ہونٹ سکوڑ کر سوچتے رہے پھر بولے۔

    ’’یار ایک ترکیب ہے۔ تم کہہ رہے تھے کہ جب تمہارے ماموں موتی میاں حسن پور سے آتے ہیں تو تمہاری اماں پلاؤ ضرور بناتی ہیں۔‘‘

    ’’ہاں وہ تو ہے لیکن فی الحال تو ماموں کے آنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔‘‘ ہم نے لقمہ دیا۔

    ’’یار سنو تو۔ تم تو گاؤں کے گاؤدی ہو۔ ایسا کرو کہ ماموں کی طرف سے اپنے گھر کے پتے پر ایک خط لکھو جس میں یہ اطلاع ہو کہ تمہارے ماموں فلاں فلاں تاریخ کو تمہارے گھر پہنچ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کی آمد کی خبر سن کر تمہاری امی ان کی پسند کے کھانے پکائیں گی۔ ماموں نے تو آنا نہیں ہے۔ کچکھ دیر انتظار کر کے گھر کے لوگ ہی وہ کھانا کھائیں گے۔‘‘

    ’’یار کباڑیا! بات تو پتے کی ہے لیکن اگر پول کھل گیا تو شامت آجائے گی۔‘‘ ہم نے خدشہ ظاہر کیا۔

    ’’اماں کچھ نہیں ہوگا۔ کچھ دن بعد یہ بات پرانی ہوجائے گی۔ تمہارے ماموں کون سے روز روز آتے ہیں لیکن دوست! ہمیں بھی اس موقع پر یاد رکھنا۔‘‘ کباڑیا مسکرائے۔

    قصہ مختصر کہ دو پیسے کا پوسٹ کارڈ خریدا گیا۔ کباڑیا کی بیٹھک میں کواڑ بند کر کے ہم نے کانپتی انگلیوں سے قلم پکڑا۔ کباڑیا نے ڈانٹتے ہوئے قلم لے لیا۔

    ’’یار تم بالکل عقل سے پیدل ہو۔ ایک تو تمہارا خط اتنا خراب ہے کہ تم خود نہیں پڑھ سکتے۔ اس کے علاوہ گھر میں ہر کوئی تمہاری تحریر پہچانتا ہے۔ فوراً ادھر لیے جاؤگے۔‘‘ یوں خط لکھنے کے فرائض کباڑیا نے انجام دیے۔ خط ماموں کی طرف سے ہماری اماں کے نام تھا جس میں یہ اطلاع تھی کہ ماموں ہفتہ کی شام تشریف لا رہے ہیں۔ جب ہم وہ خط چوکی چوراہے کے لیٹر بکس میں پوسٹ کرنے جارہے تھے تو ڈر کے مارے پیر کانپ رہے تھے اور ایسا لگتا ہے کہ پورا شہر ہمیں گھور گھور کر دیکھ رہا ہے۔ بہت انتظار کے بعد جمعرات کے دن وہ تاریخی خط پہنچ گیا۔ ہم نے دیکھا کہ دوسری ڈاک کے ساتھ وہ پوسٹ کارڈ ہمارے والد صاحب کے سرہانے رکھا تھا۔ خط پڑھنے کے بعد ہمارے والد صاحب نے ہماری اماں سے کہا:’’ ارے بھئی سنتی نہیں ہو (قبلہ والد صاحب ہماری والدہ کو ’’سنتی نہیں ہو‘‘ یا ’’کہاں گئیں‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے تھے) ہفتہ کی شام کو موتی میاں آ رہے ہیں۔‘‘

    اماں بہت خوش ہوئیں۔ ابھی تک ہماری اسکیم کامیاب جارہی تھی۔ ہفتہ کے دن تیسرے پہر پلاؤ کی یخنی چولھے پر چڑھ گئی۔ شامی کباب کے لیے چنے کی دال اور قیمہ سل پر پسنا شروع ہوا۔ کھانے کی خوشبو سے شام ہی سے پیٹ میں چوہے دوڑنا شروع ہو گئے۔

    شام چار بجے ایک ایسا بم گرا کہ ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم سائیکل پر دہی لے کر آ رہے تھے۔ دیکھا کہ ہمارے گھر کے سامنے ایک سائیکل رکشے سے ہمارے موتی ماموں اپنا مخصوص خاکی رنگ کا تھیلا لیے اتر رہے ہیں۔ ہمیں دیکھتے ہی انہوں نے گلے سے لگایا۔ ہماری ایسی سٹی گم تھی کہ ہمیں ان کو سلام کرنے کا خیال بھی نہیں آیا۔ رہ رہ کر خیال آ رہا تھا کہ ماموں کے خط کا ذکر ضرور آئےگا اور ہماری شرافت کا سارا پھول کھل جائےگا۔ ماموں کے گھر میں آتے ہی ہم ان سے چپک گئے کہ جیسے ہی خط کا ذکر آئے ہم بچاؤ کی کچھ ترکیب کریں۔ دو تین گھنٹے خیریت سے گزر گئے۔ مغرب کی نماز کے بعد ہم سب لوگ آنگن میں بیٹھے تھے۔ ماموں محفل سجائے شکار کے فرضی قصے سنا رہے تھے۔ ہماری اماں ادھر سے گزریں اور کہنے لگیں۔

    ’’ارے بھیا! تو نے تو لکھا۔۔۔‘‘ اتنا سنتے ہی ہم پیٹ دبا کر ایسے کراہے کہ سب گھبرا کر ہماری طرف متوجہ ہو گئے۔ ہم پیٹ پکڑ کر پلنگ پر لیٹ گئے۔ اماں کام چھوڑ کر ہماری طرف لپکیں۔ ہمیں فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا اور ڈاکٹر صاحب نے وہی مخصوص کڑوا لال شربت دے کر چکنی غذا سے پرہیز کی تاکید کر دی۔

    رات کو سب لوگ دسترخوان کے گرد بیٹھے پلاؤ اور شامی کباب کے مزے لے رہے تھے اور ہم چمچے سے دلیہ کھاتے ہوئے حسرت سے سب کو دیکھ رہے تھے۔ گلی میں سے کباڑیا مخصوص سیٹی کی آواز آ رہی تھی۔ شاید وہ بھی بھوک سے تلملا رہے تھے۔

    موضوعات

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے