Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Armaan Jodhpuri's Photo'

ارمان جودھ پوری

1994 | راجستھان, انڈیا

ارمان جودھ پوری کے اشعار

453
Favorite

باعتبار

ساری دنیا تری ہونٹوں کی ہنسی میں گم ہے

کون دیکھے گا مری آنکھ کے پانی کی طرف

پیاسی بہت تھیں حسرتیں لو آج مر گئیں

بارش کا انتظار تھا وہ بھی نہیں رہا

آنکھوں نے آنسوؤں کا تبرک لٹا دیا

دل کے مزار پر تری یادوں کا عرس ہے

زندگی زلف نہیں تھی جو سنواری جاتی

زندگی اور الجھتی گئی سلجھانے میں

آخر ترے سوال کا میں کیا جواب دوں

اے میرے ہم خیال ذرا سوچنے تو دے

پہلے پہلے خوب محبت کی ہم نے

پھر ہم دونوں نے یہ رستہ چھوڑ دیا

میں نے دیکھا تو نہیں میرؔ کا دیوان مگر

جانتا ہوں تری آنکھوں کی طرح ہوتا ہے

کام ہو تو کام کرنا وقت ہو تو شاعری

نوکری اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگہ

دوریاں تم نے ہی بڑھائی تھیں

ہم تو اپنی جگہ پہ ٹھہرے ہیں

اس کی آنکھوں سے نیند غائب ہے

اور میں شک کے دائرے میں ہوں

کیوں ظلم کرتی ہے دنیا ہم عشق والوں پر

ہم عشق کرتے ہیں کوئی خطا نہیں کرتے

وہ جس سے موت نکالے گی ایک دن آ کر

تمہیں خبر ہے اسی زندگی کی قید میں ہوں

میں نے اکھاڑ پھینکے ہیں بازو سے ایسے پر

جو بوجھ تھے کبھی مری اونچی اڑان میں

کیا ہماری بات ہم کس کام کے

سب بھروسے چل رہا شری رام کے

آخری نقصان تھا تو زندگی کا

میں نے تیرے بعد کچھ کھویا نہیں ہے

زندگی کے سب سہارے آپ کے

ہم بھی ہیں سارے کے سارے آپ کے

کیا ضرورت ہے زمانہ میں کسی دشمن کی

دوست کیا کم ہیں یہاں آگ لگانے والے

کم سے کم اتنا اشارہ تو کرو جاتے ہوئے

تم کبھی یاد جو آؤ تو کسے یاد کریں

دو بار لبوں نے بھی آپس میں لئے بوسے

جب نام لیا میں نے اک بار محمد کا

اک تبسم سے اشک باری تک

آ گیا حسن ہوشیاری تک

جس کے دم سے تھی جسم کی رونق

اس اداسی کے ہاتھ پیلے ہوئے

تیرے جانے کے بعد جانا ہے

زندگی ہے سفر اداسی کا

ہے میرے دل کو انا اس قدر عزیز کہ وہ

تڑپنے بھی نہیں دیتا ہے آہ بھر کے مجھے

لڑکیاں ہیں بس اتنی ہی آزاد

مچھلیاں جتنی مرتبانوں میں

آنکھوں نے آنسوؤں کا تبرک لٹا دیا

دل کے مزار پر تری یادوں کا عرس ہے

زندگی کے سب سہارے آپ کے

ہم بھی ہیں سارے کے سارے آپ کے

کام ہو تو کام کرنا وقت ہو تو شاعری

نوکری اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگہ

لبوں پہ ناچ رہا تھا مگر کہا نہ گیا

میں ایسا حرف ہوں جس کو کبھی لکھا نہ گیا

ہے میرے دل کو انا اس قدر عزیز کے وہ

تڑپنے بھی نہیں دیتا ہے آہ بھر کے مجھے

کم سے کم اتنا اشارہ تو کرو جاتے ہوئے

تم کبھی یاد جو آؤ تو کسے یاد کریں

آخری نقصان تھا تو زندگی کا

میں نے تیرے بعد کچھ کھویا نہیں ہے

جس کے دم سے تھی جسم کی رونق

اس اداسی کے ہاتھ پیلے ہوئے

معجزہ اور بھلا اس سے بڑا کیا ہوگا

درد اس دل میں ہے گرتے ہیں تمہارے آنسو

روح بدن ذرا سی تو گھبرانی چاہیئے

تھوڑی بہت تو شرم تمہیں آنی چاہیئے

لڑکیاں ہیں بس اتنی ہی آزاد

مچھلیاں جتنی مرتبانوں میں

کیا ہماری بات ہم کس کام کے

سب بھروسے چل رہا شری رام کے

دو بار لبوں نے بھی آپس میں لئے بوسے

جب نام لیا میں نے اک بار محمد کا

Recitation

بولیے