چرن سنگھ بشر کے اشعار
یہ دنیا نفرتوں کے آخری اسٹیج پہ ہے
علاج اس کا محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
کوئی بستی میں بشر جیسا نظر آتا نہیں
سخت الجھن میں ہیں ویرانے کسے آواز دیں
دنگے میں تو ہلاک ہوئے بے شمار لوگ
کل کس طرح چھپے گی خبر دیکھنا یہ ہے
اگر زندہ ہی رہنا ہے تو رہئے اپنی شرطوں پر
کہ خودداری سے خالی لوگ سو سو بار مرتے ہیں
-
موضوع : خودداری
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہونٹوں پہ کھل رہے ہیں صداقت کے چند پھول
نیزے پہ کب بلند ہو سر دیکھنا یہ ہے
-
موضوع : کربلا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دور تک امید کی کوئی کرن باقی نہیں
ہو چکے اپنے بھی بیگانے کسے آواز دیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ