حیات امروہوی کے اشعار
عاشق کی بھی ہستی ہے دنیا میں عجب ہستی
زندہ ہے تو رسوا ہے مر جائے تو افسانہ
زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے
بج رہا ہے اور بے آواز ہے
ضبط غم وفور شوق اور دل ناصبور عشق
مجھ کو تو ہے غرور عشق آپ کو ناز ہو نہ ہو
چھیڑئیے ساز زندگی نغمہ نواز ہو نہ ہو
آہ تو کر کے دیکھیے سوز میں ساز ہو نہ ہو