Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hayat Amrohvi's Photo'

حیات امروہوی

1912 - 1946 | ممبئی, انڈیا

حیات امروہوی کے اشعار

عاشق کی بھی ہستی ہے دنیا میں عجب ہستی

زندہ ہے تو رسوا ہے مر جائے تو افسانہ

زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے

بج رہا ہے اور بے آواز ہے

لے نہ ٹوٹے زندگی کے ساز کی

زندگی آواز ہی آواز ہے

ضبط غم وفور شوق اور دل ناصبور عشق

مجھ کو تو ہے غرور عشق آپ کو ناز ہو نہ ہو

چھیڑئیے ساز زندگی نغمہ نواز ہو نہ ہو

آہ تو کر کے دیکھیے سوز میں ساز ہو نہ ہو

Recitation

بولیے