Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Kavish Badri's Photo'

کاوش بدری

1927 | چنئی, انڈیا

کاوش بدری

غزل 18

اشعار 12

ایک بوسہ ہونٹ پر پھیلا تبسم بن گیا

جو حرارت تھی مری اس کے بدن میں آ گئی

اب نہ وہ احباب زندہ ہیں نہ رسم الخط وہاں

روٹھ کر اردو تو دہلی سے دکن میں آ گئی

شاعری میں انفس و آفاق مبہم ہیں ابھی

استعارہ ہی حقیقت میں خدا سا خواب ہے

از سر نو فکر کا آغاز کرنا چاہیئے

بے پر و بال سہی پرواز کرنا چاہیئے

جواب دینے کی مہلت نہ مل سکی ہم کو

وہ پل میں لاکھ سوالات کر کے جاتا ہے

کتاب 14

دیگر شعرا کو پڑھیے

 

Recitation

بولیے