Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Leo Tolstoy's Photo'

لیو ٹالسٹائی

1828 - 1910 | روس

عظیم روسی فکشن نگار، فلسفی، عدم تشدد کے داعی اور 'جنگ و امن' کے خالق

عظیم روسی فکشن نگار، فلسفی، عدم تشدد کے داعی اور 'جنگ و امن' کے خالق

لیو ٹالسٹائی کا تعارف

تخلص : 'ٹالسٹائی'

اصلی نام : لیو نکولائیوچ ٹالسٹائی

پیدائش : 09 Sep 1828

وفات : 20 Nov 1910 | روس

شناخت: دنیا کے عظیم ترین روسی ناول نگار، ڈراما نویس، فلسفی، عدم تشدد کے داعی اور 'جنگ اور امن' (War and Peace) جیسے عالمی شاہکار کے خالق

لیو ٹالسٹائی (لیو تولستوئی) 9 ستمبر 1828ء کو روس کے علاقے تُلا میں واقع یسنایا پولیانا کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام لیو نکولائیوچ ٹالسٹائی تھا۔

ٹالسٹائی محض نو برس کی عمر میں والدین کے سائے سے محروم ہو گئے، جس کے بعد ان کی اور ان کے بہن بھائیوں کی پرورش مختلف رشتہ داروں نے کی۔ بچپن میں انہوں نے فرانسیسی اور جرمن اساتذہ سے گھر پر تعلیم حاصل کی۔

16 برس کی عمر میں انہوں نے کازان یونیورسٹی (Kazan University) میں قانون اور مشرقی زبانوں کے شعبے میں داخلہ لیا۔ تاہم، اساتذہ انہیں ایک 'نالائق اور لاپروا' طالب علم سمجھتے تھے۔ اساتذہ اور ساتھی طلبہ کے منفی رویوں سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے ڈگری حاصل کیے بغیر تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور اپنی آبائی جاگیر لوٹ آئے۔

1849ء میں انہوں نے اپنی جاگیر پر کسانوں کے بچوں کی بہبود اور تعلیم کے لیے ایک اسکول کھولا، جو جلد ہی ناکام ہو گیا۔ اس کے بعد وہ ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ چلے گئے جہاں انہوں نے روسی کسانوں کی زبوں حالی اور سماجی زندگی کا گہرا مطالعہ کیا۔

1851ء میں وہ فوج میں شامل ہوئے اور ترکوں کے خلاف جنگ (جنگِ کریمیا) میں حصہ لیا۔ فوج میں قیام کے دوران ہی انہوں نے اپنی سوانح عمری پر مبنی پہلا ناول "بچپن" (Childhood) لکھا جو 1852ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں ’’لڑکپن‘‘ اور ’’جوانی‘‘ کے ذریعے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔

فوج کی ہولناکیوں اور محاصرے کے آنکھوں دیکھے احوال پر مبنی ان کی کتاب "سیواتوپول کی کہانیاں" (Sevastopol Sketches) نے انہیں ادبی دنیا میں مقتدر شناخت دلائی۔ جلد ہی وہ فوجی زندگی سے اکتا کر سینٹ پیٹرزبرگ واپس آ گئے اور ایوان ترگنیف جیسے ہم عصر ادیبوں سے دوستی کر لی۔

1857ء اور 1860ء میں ٹالسٹائی نے مغربی یورپ کا طویل دورہ کیا تاکہ جدید یورپی تہذیب کو قریب سے سمجھ سکیں۔ یورپ سے واپسی پر 1862ء میں انہوں نے شادی کی اور اگلے پندرہ برس مسلسل اپنی جاگیر پر گزارے۔ یہی ان کی زندگی کا وہ زرخیز ترین دور تھا جس میں انہوں نے دنیا کے دو عظیم ترین ناول تخلیق کیے:

جنگ اور امن (War and Peace): جو 1865ء سے 1869ء کے درمیان لکھا گیا اور اس کی بنیاد ان کے اپنے فوجی تجربات پر تھی۔

اینا کارینینا (Anna Karenina): جو 1875ء سے 1877ء کے درمیان تحریر کیا گیا۔

1876ء کے بعد ٹالسٹائی شدید داخلی اور روحانی بحران سے گزرے۔ انہوں نے روسی کلیسا کے جمود زدہ اور جاگیردارانہ نظریات کو مسترد کرتے ہوئے 'مسیحیت کی نشاۃِ ثانیہ' کا اپنا ایک نیا فلسفہ وضع کیا، جس کی تفصیلات انہوں نے اپنی معرکہ آرا کتاب "اعتراف" (A Confession) میں لکھیں۔

انہوں نے نجی ملکیت کے تصور کو رد کیا، انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کی مذمت کی اور قلم و زبان سے جمہوریت، مساوات، اخوت اور عدم تشدد کو اپنا مسلک قرار دیا۔ ان کے ان نظریات نے آگے چل کر مہاتما گاندھی جیسی شخصیات کو متاثر کیا۔

روس کی عوام اور دنیا بھر میں ٹالسٹائی کا اثر و رسوخ اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ روسی حکومت ان کے انقلابی خیالات کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی جرات نہ کر سکی، البتہ متعصب روسی کلیسا نے 1901ء میں انہیں خارجِ مسیحیت کر دیا۔

وہ اپنے نظریات کے مطابق سادہ زندگی گزارنا چاہتے تھے لیکن خاندان کے افراد (خصوصاً بیگم) ان کی اس درویشی کے مخالف تھے۔ چنانچہ دل گرفتہ ہو کر انہوں نے بوڑھاپے میں اپنا گھر چھوڑ دیا، اپنی تمام دولت و جاگیر کسانوں اور مزدوروں میں بانٹ دی اور تن کے دو کپڑوں کے علاوہ سب کچھ تیاگ دیا۔

ٹالسٹائی صرف ناول نگار ہی نہیں بلکہ ڈراما نگار، مضمون نگار، مصلح اور فلسفی بھی تھے۔ ان کی دیگر اہم تصانیف میں ’’قیامت‘‘، ’’ایوان ایلیچ کی موت‘‘، ’’کروئٹزر سوناٹا‘‘ اور متعدد اخلاقی و سماجی مضامین شامل ہیں۔

وفات: 20 نومبر 1910ء کو روس کے ایک دور افتادہ ریلوے اسٹیشن (ایستاپوو) کے پلیٹ فارم پر کسمپرسی کی حالت میں اس عظیم مصلح اور ادیب کا انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے