ماچس لکھنوی کے اشعار
واعظ نے مجھ میں دیکھی ہے ایمان کی کمی
واعظ میں صرف دم کی کسر دیکھتا ہوں میں
واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا
ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے
جب شیخ و برہمن سے ہوا دل مایوس
شیطان نے نیتاؤں کو تیار کیا
شیخ جی رندوں میں جس دن پھنس گئے
ان کی داڑھی نوچ ڈالی جائے گی
عدو کی موت پر اپنی خوشی کا خواب دیکھا ہے
خدا وندا کہیں یہ واقعہ الٹا نہ ہو جائے
نار و جنت کی سناتا ہے خبر یوں واعظ
جیسے اخبار وہاں سے ترے نام آتا ہے
سر پہ واعظ کے وہ استرا چل گیا
وہ اندھیرا چھٹا روشنی ہو گئی
سنتے ہیں جتنی حسینوں سے سوا ہوں باتیں
اتنا ہی حسن بیاں حسن کلام آتا ہے
اللہ اللہ رہ عشق کی ٹھوکریں
چار دن میں طبیعت ہری ہو گئی