مسعود مفتی کے افسانے
گورکن
قبروں کے درمیان زندگی گزارنے والے ایک گورکن کی کہانی، جو پچھلے ایک ہفتے سے خالی ہے کہ کوئی میت آئی ہی نہیں جس کی وہ قبر تیار کر سکے اور اپنی مزدوری پوری کرے۔ وہ اللہ سے دعا کرتا ہے کہ اللہ کسی کو بے موت مار دے۔ قبرستان کے باہر بنی کوٹھری میں بیٹھا وہ اپنی گزشتہ زندگی کے بارے میں غور کرتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ کیسے خوشگوار دن تھے۔ تبھی ایک سائیکل سوار اس کے پاس آتا ہے اور اسے ایک بچے کی قبر تیار کرنے کے لیے کہہ کر چلا جاتا ہے۔ گورکن اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس نے آج کی روزی کا انتظام کر دیا۔ بعد میں گورکن کو پتہ چلتا ہے کہ وہ جس بچے کی قبر تیار کر رہا ہے وہ کسی اور کی نہیں، اس کے اپنے بچے کی قبر ہے، جو پتنگ اڑاتا ہوا چھت سے گر کر مر گیا ہے۔
محدب شیشہ
یہ ایک ایسےسادہ لوح اسکول ماسٹر کی کہانی ہے، جو مسجد میں امام صاحب کی وعظ سے متاثر ہو کر ایک بیوہ عورت کی مدد کرنےلگتا ہے۔ بستی کے کچھ لوگ اس کی اس مدد کو دوسری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسکول ماسٹر کو جب اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ ہر کسی کو اپنی صفائی دیتا ہے،لیکن کوئی اس کی بات پر یقین نہیں کرتا۔ پڑوسی عورتیں بیوہ کے ساتھ برا برتاؤ کرنے لگتی ہیں۔ اس سے افسردہ ہوکر وہ بستی چھوڑ کر جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جانے سے قبل وہ ماسٹر صاحب سے مل لینا چاہتی ہے۔ جب وہ ان کے گھر پہنچتی ہے تو ماسٹر صاحب اپنی چارپائی پر مرے پڑے ملتے ہیں۔