مسرور جہاں کے افسانے
اپنا سورج، اپنا چاند
قوس قزح کے سارے رنگ اس کی تنہا ذات میں سمٹ آئے تھے۔ اگر حسن کی کوئی تعریف ہو سکتی ہے تو اسے دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حسن اسے کہتے ہیں اور جب میرا جیسا مڈل ایج کا مرد کسی لڑکی کے حسن اور دلکشی کی یوں دل کھول کر تعریف کرے تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں
ٹکڑوں میں بٹی عورت
تہمینہ کمرے میں اکیلی تھی۔ سناٹا اندر ہی نہیں باہر بھی تھا۔ نہ کوئی آہٹ، نہ کوئی آواز۔ بس اسی کے کپڑوں کی ہلکی سی سرسراہٹ تھی۔ یا اس کے اپنے دل کی آواز۔ دل کی دھڑکنوں کا شور بتدریج بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا۔ یہ اس کا حجلۂ عروسی
خواب در خواب سفر
آگ اور خون کا بحر بیکراں پار کر کے اس کے قدموں نے نرم نرم دھرتی کو چھوا تو اسے اپنے دل میں ٹھنڈک سی اترتی محسوس ہوئی اور وہ دیر تک منہ اوندھائے وہیں بےحس و حرکت پڑا رہا۔ اپنی مٹی کی سوندھی خوشبو نے اس کی گدلائی ہوئی آنکھوں کو نم کر دیا۔ پھولوں جیسی معطر
واپسی
دن بھر آفس میں دماغ کھپانے کے بعد بس کا انتظار کرنا سزا سے کم نہیں تھا۔ لیکن یہ سزا اسے روز بھگتنا پڑتی تھی۔ ٹیکسی کے اخراجات افورڈ کرنا اس کی حیثیت سے باہر تھا۔ کیونکہ گھر بہت دور تھا۔ دیر سویر ہونے کی صورت میں اماں بہت گھبراتی تھیں، ان کی خاطر وہ جلد