مشرف عالم ذوقی کا تعارف
شناخت: عہدِ حاضر کے ممتاز ناول نگار، جدید اردو فکشن کے نمائندہ تخلیق کار
مشرف عالم ذوقی 24 مارچ 1962ء کو بہار کے شہر آرا میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی سے مطالعے اور تخلیق کا شوق تھا۔ محض سترہ برس کی عمر میں اپنا پہلا ناول "عقاب کی آنکھیں" تحریر کیا اور بیس سال کی عمر تک متعدد ناول لکھ کر ادبی حلقوں میں اپنی موجودگی منوا لی۔ انہوں نے قلم ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور پوری زندگی ادب کو جینے کا شعار بنائے رکھا۔
ذوقی کا ادبی ظہور اس دور میں ہوا جب اردو ادب ترقی پسند تحریک سے آگے بڑھ کر جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے فکری و فنی مباحث سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے اس بدلتے ادبی منظرنامے میں اپنا منفرد راستہ بنایا اور اردو فکشن کو محض بیانیہ روایت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے علامتی، استعاراتی، نفسیاتی اور تہذیبی جہات عطا کیں۔
ان کے یہاں معاصر ہندوستان کا سیاسی و سماجی بحران، شناخت کا مسئلہ، فرقہ وارانہ کشیدگی، انسانی اقدار کا زوال، گلوبلائزیشن، نسلوں کا تصادم، عورت کے مسائل، داخلی تنہائی اور تہذیبی بے سمتی نمایاں موضوعات ہیں۔ وہ انسان دوستی، محبت، رواداری اور فکری آزادی کے ادیب تھے اور اپنے ناولوں و افسانوں میں انہی قدروں کو مرکزی حیثیت دیتے رہے۔
ان کے نمایاں ناولوں میں عقاب کی آنکھیں، نیلام گھر، شہر چپ ہے، ذبح، لے سانس بھی آہستہ، آتش رفتہ کا سراغ، پروفیسر ایس کی عجیب داستان وایا سنامی، مسلمان اور مرگِ انبوہ شامل ہیں۔ ان کا ناول "مرگِ انبوہ" اردو کے اہم معاصر سیاسی ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں انہوں نے بدلتے ہوئے ہندوستان، شناختی بحران اور اجتماعی خوف کو علامتی پیرائے میں پیش کیا۔
افسانہ نگاری میں بھی ان کا مقام نمایاں ہے۔ ان کا افسانوی مجموعہ "نفرت کے دنوں میں" معاصر سیاسی و سماجی صورتِ حال اور انسانی قدروں کی پامالی کا مؤثر ادبی اظہار سمجھا جاتا ہے۔
مشرف عالم ذوقی کی نثر کی ایک بڑی خصوصیت جزئیات نگاری، علامتی تہہ داری اور بیانیہ قوت ہے۔ وہ ناول و افسانے میں تفصیلی منظرنگاری اور جزئیات کے ذریعے ایک مکمل فکری و تہذیبی کائنات تخلیق کرتے ہیں۔
وہ اردو صحافت سے بھی وابستہ رہے۔
وفات: 19 اپریل 2021ء کو انتقال ہوا۔