نیر مسعود کے ذریعے کیے گئے تراجم
پل
فرانز کافکا
میں سردی سے اکڑ گیا تھا۔ میں ایک پل تھا۔ میں ایک درے پر پڑا ہوا تھا۔ میرے پیر درے کے ایک طرف تھے، ہاتھوں کی انگلیاں دوسری طرف جمی ہوئی تھیں۔ میں نے اپنے آپ کو بھربھری مٹی میں مضبوطی کے ساتھ بھینچ رکھا تھا۔ میرے دونوں پہلوؤں پر میرے کوٹ کے دامن پھڑپھڑا
ایک قدیم مخطوطہ
فرانز کافکا
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے دفاعی نظام میں بہت سی کوتاہیاں رہنے دی گئی ہیں۔ اب تک ہم نے اس معاملے سے کوئی سروکار نہیں رکھا تھا اور اپنے روزمرہ کے کاموں میں لگے رہتے تھے لیکن حال میں جو باتیں ہونے لگی ہیں، انہوں نے ہمیں تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔ شاہی
ایک چھوٹی سی کہانی
فرانز کافکا
’’افسوس!‘‘ چوہے نے کہا، ’’دنیا روزبروز چھوٹی ہوتی جارہی ہے۔ شروع شروع میں تو یہ اتنی بڑی تھی کہ مجھے خوف آتا تھا۔ میں بھاگتا رہا، بھاگتا رہا، اور جب آخر کار مجھ کو دور پرداہنے بائیں دیواریں دکھائی دینے لگیں تو میں بہت خوش ہوا تھا۔ لیکن یہ لمبی دیواریں
بے خیالی میں کھڑکی سے دیکھنا
فرانز کافکا
آخر یہ بہار کے دن جو سرپر چلے آرہے ہیں ہم ان کا کیا کریں؟ آج سویرے سویرے آسمان کا رنگ مٹیالا تھا لیکن اب اگر آپ کھڑکی پر جاتے ہیں تو آپ کو تعجب ہوتا ہے اور آپ دریچے کے کھٹکے پر اپنا رخسار رکھ دیتے ہیں۔ سورج ڈوب چلا ہے۔ لیکن نیچے وہ آپ کو ایک ننھی بچی
حویلی کے پھاٹک پر دستک
فرانز کافکا
گرمی کا موسم تھا، تپتا ہوا دن۔ اپنی بہن کے ساتھ گھر لوٹتے ہوئے میں ایک بہت بڑے مکان کے پھاٹک کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ اب میں یہ نہیں بتاسکتا کہ میری بہن نے پھاٹک پر شرارتاً دستک دے دی تھی یا بے خیالی میں اس کی طرف اپنا ہاتھ صرف بڑھایا تھا اور دستک سرے
بارش اور آنسو
بابا مقدم
سرما کی شام تھی۔ بندرگاہ پہلوی کے کہر آلود اور اداس ساحل پر میں اور محمود چہل قدمی کر رہے تھے۔ ساحل پر میں تھا اور وہ، اور موجوں کا شور اور پرندوں کی آوازیں جو دور سمندر کی سطح سے ملے ملے، پر مارتے چلے جا رہے تھے۔ آگے بڑھ کر سمندر تاریک ہو گیا تھا
فیصلہ: ف کے لیے ایک کہانی
فرانز کافکا
بھری بہار میں اتوار کی ایک صبح تھی۔ دریا کے کنارے ایک قطار میں بنے ہوئے چھوٹے چھوٹے بودے مکان جن میں رنگ اور بلندی کے سوا کوئی اور فرق مشکل ہی سے نظر آتا تھا، ان میں سے ایک کی پہلی منزل پر اپنے نجی کمرے میں ایک نوجوان تاجر جارج بنڈمان بیٹھا ہوا تھا۔
نیا وکیل
فرانز کافکا
ہمارے یہاں ایک نیا وکیل آیا ہے، ڈاکٹر بُسفیلس۔ اس کے حلیے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے آپ کو یہ خیال آسکے کہ وہ کسی زمانے میں سکندر مقدونی کا گھوڑا تھا۔ ہاں، اگر آپ اس کی کہانی سے واقف ہوں تو البتہ آپ کو کچھ کچھ ایسا محسوس ہوسکتا ہے۔ لیکن ابھی ایک
شکاری گریکس
فرانز کافکا
بندرگاہ کی دیوار پر دو لڑکے بیٹھے ہوئے پانسے کھیل رہے تھے۔ تاریخی یادگار کی سیڑھیوں پر بیٹھا ایک شخص اخبار پڑھ رہا تھا اور اس سورما کے سایے میں سستا رہا تھا جو تلوار علم کیے ہوئے تھا۔ ایک لڑکی چشمے سے بالٹی بھر رہی تھی۔ ایک پھل والا اپنی ترازو کے پاس
لباس
فرانز کافکا
اکثر جب میں ایسے لباس دیکھتا ہوں جن میں طرح طرح کی چنٹیں دی ہوئی، گوٹیں ٹکی ہوئی اور جھالریں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جو حسین جسموں پر نہایت چست بیٹھتے ہیں، تو میں سوچتا ہوں کہ وہ اپنی ہمواری زیادہ عرصے تک برقرار نہ رکھ پائیں گے، ان میں ایسی شکنیں پڑجائیں
فرانسیسی قیدی
صادق ہدایت
میرا قیام بیزانسن میں تھا۔ ایک دن میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میرا ملازم ملگجا نیلا ایپرن باندھے جھاڑو لگا رہا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے میز پر سے ایک کتاب اٹھائی جو جنگ کے بارے میں تھی اور حال ہی میں جرمن سے ترجمہ ہوئی تھی۔ کہنے لگا، ’’صاحب،
قصبے کا ڈاکٹر
فرانز کافکا
میں بڑی الجھن میں تھا۔ دس میل دور کے ایک گاؤں میں ایک بہت بیمار مریض میری راہ دیکھ رہا تھا۔ میرے اور اس کے درمیان کے تمام وسیع خلاؤں کو تیز برفانی طوفان نے پر کر رکھا تھا۔ میرے پاس ایک گھوڑا گاڑی تھی، یہ بڑے پہیوں والی ہلکی گاڑی تھی جو ہماری دیہاتی
اگلا گاؤں
فرانز کافکا
میرے دادا کہا کرتے تھے! ’’زندگی حیرت خیز حدتک مختصر ہے۔ میں تو جب اپنی زندگی پر نظر کرتا ہوں تو یہ اتنی قلیل معلوم ہوتی ہے کہ مثال کے طور پر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی نوجوان اس اندیشے کے بغیر اگلے گاؤں کو روانہ ہونے کا ارادہ کس طرح کرسکتا ہے
دوغلا
فرانز کافکا
میرے پاس ایک عجیب الخلقت جانور ہے، آدھا بلی، آدھا بھیڑ کا بچہ۔ یہ میرے باپ کا ترکہ ہے لیکن یہ بڑھا میرے ہی زمانے میں ہے۔ پہلے یہ بلی کم اور بھیڑ بہت زیادہ تھا۔ اب یہ دونوں میں برابر برابر بٹا ہوا ہے۔ اس کا سر اور پنجے بلی کے سے ہیں، جسامت اور بناوٹ
درخت
فرانز کافکا
ایسا ہے کہ ہم برف میں درختوں کے تنوں کی طرح ہیں۔ دیکھنے میں وہ ڈھیلے ڈھالے پڑے ہوتے ہیں اور ایک ہلکا سا دھکا انہیں لڑھکانے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ نہیں، ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ وہ زمین میں پینٹھے ہوئے ہیں۔ مگر دیکھیے نا، خود یہ بھی دکھاوا ہی
خانہ دار کی پریشانیاں
فرانز کافکا
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’اودرادِک‘‘ اصلاً سلانی زبان کا لفظ ہے اور اسی بنیاد پر وہ اس کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری طرف بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ اس کی اصل جرمن ہے اور سلانی زبان کا اس پر صرف اثر پڑا ہے۔ ان دونوں تاویلوں کے تذبذب کی وجہ سے یہ
مردہ سانپ
بابا مقدم
گھنی شاخوں اورہری پتوں کی چھتری والا دارِ زعفران واحد درخت تھا جو لُرستان کے تخت آب و اشیون کے علاقے میں نظر آتا تھا۔ کچھ دن ہوئے، مجھے شوق پیدا ہوا کہ دارِ زعفران کو قریب سے جا کر دیکھا جائے۔ تخت آب میں خیمہ لگانے کے پہلے ہی دن میں نے ایک لرستانی
پاس سے گزرنے والے
فرانز کافکا
جب آپ رات کو کسی سڑک پر ٹہلنے کے لیے نکلتے ہیں اور خاصے فاصلے پر سے دکھائی دیتا ہوا۔۔۔ اس لیے کہ سڑک پہاڑی کو جاتی ہے اور پورا چاند نکلا ہوا ہے۔۔۔ ایک آدمی دوڑتا ہوا آپ کی سمت آتا ہے تو آپ اسے پکڑ نہیں لیتے۔ اگر وہ کوئی ناتواں شکستہ حال انسان ہے تب بھی
بلی کا خون
اب میں اپنی بلی کے بدن پر نظر کرتی ہوں۔ کیسا سوکھ کررہ گیا ہے! یہ مجھے اچھا لگ رہا ہے۔ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی ہوں۔ کوئی خاص بات نہیں، وہ مر گئی، ہم دونوں کو چین پڑا۔ کب سے وہ اپاہجوں کی طرح گھسٹ رہی تھی۔ اس کی میاؤں میاؤں سے پتہ چلتا تھا کہ
بالٹی سوار
فرانز کافکا
سارا کوئلہ ختم، بالٹی خالی، بیلچہ بے مصرف، آتش دان ٹھنڈی سانسیں بھرتا ہوا، کمرہ منجمد ہوتا ہوا، کھڑکی کے باہر بتیاں ٹھٹھری ہوئیں، پالے میں لپٹی ہوئیں، آسمان ہر اس شخص کے مقابلے پر روپہلی سپر بناہوا جو اس سے مدد کا طلب گار ہو۔ مجھے کوئلہ مہیا
ایک عام خلفشار
فرانز کافکا
ایک عام تجربہ، اس کے نتیجے میں ایک عام خلفشار۔ الف کو ب کے ساتھ مقام ج پر کچھ اہم تجارتی معاملت کرنا ہے۔ ابتدائی بات چیت کے لیے وہ مقام ج جاتا ہے۔ وہ دس منٹ میں راستہ طے کرلیتاہے اور واپسی میں بھی اسے اتنا ہی وقت لگتا ہے۔ واپس آکر گھروالوں کو وہ اپنی
گیدڑ اور عرب
فرانز کافکا
ہم نخلستان میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ میرے ساتھی سو رہے تھے۔ ایک عرب کا لمبا سفید ہیولا پاس سے گزرا۔ وہ اونٹوں کی دیکھ بھال کرتا رہا تھا اور اپنے سونے کے ٹھکانے پر جارہا تھا۔ میں گھاس پر پیٹھ کے بل دراز ہوگیا۔ میں نے سونے کی کوشش کی، نہیں سوسکا۔ دور
خواب
اسماعیل فسیح
1 رات کے اندھیرے میں مجھے ایک خواب دکھائی دیتا ہے کہ میں نے اپنے ایک ہم شکل کو قتل کردیا ہے، یا اپنے ہم زاد کو قتل کردیا ہے۔ کسی جگہ، آئینے کے سامنے، میں نے چھرے کا پھل اس کے گلے میں اتار دیا ہے۔ خون کا فوراہ ابلتا ہے۔ وہ ایک چیخ مارتاہے۔ آہستہ
پنجرے
بابا مقدم
پنجروں کا عجائب خانہ اس شہر کی قابل دید جگہوں میں سے تھا۔ وسیع میدان میں ایک پہاڑی پر بنی ہوئی اس کی مخروطی چھت والی عمارت دور ہی سے نظر آنے لگتی تھی۔ موٹریں تماشائیوں کو ایک لہراتی ہوئی سڑک سے، جس کے دونوں طرف شہتوت کے درخت لگے ہوئے تھے، عمارت
گیلری میں
فرانز کافکا
اگر سرکس میں کسی مریل مدقوق سی کرتب دکھانے والی کو کوئی کوڑا گھماتا ہوا بے درد رِنگ ماسٹر کسی بدلگام گھوڑے کی پیٹھ پر بٹھاکر مجبور کرتا کہ وہ کبھی سیر نہ ہونے والے تماشائیوں کے سامنے مہینوں تک رکے بغیر چکر پر چکر لگائے جائے، گھوڑے پر زناٹے کے ساتھ گھومتی
ولادت
اسماعیل فسیح
بچے کا سر باہر آیا اور تسلے میں تھوڑا خون گرا۔ میری دادی نے زچہ کے دونوں ہاتھ کس کر پکڑ لیے اور کہا، ’’زور لگاؤ، کہو یا علیؑ، یا فاطمہ زہراؑ۔‘‘ زچہ اب بھی چیخ چیخ کر روئے جارہی تھی۔ میری طرف کسی کا دھیان نہ تھا۔ میں بارش میں بھیگتا ہوا آیا
ریڈ انڈین ہونے کی خواہش
فرانز کافکا
کاش کوئی ریڈ انڈین ہی ہوتا، ہر دم چوکنا اور ایک دوڑتے ہوئے گھوڑے پر سوار، ہوا کے سامنے جھکا ہوا۔ مرتعش زمین کے اوپر جھٹکے کھاتا تھرتھراتا ہوا، یہاں تک کہ وہ اپنے مہمیز پھینک دیتا، اس لیے کہ مہمیزوں کی حاجت ہی نہ ہوتی، لگا میں گرادیتا، اس لیے کہ
آقائے ماضی کے عجائب خواب
پھر ایک وحشت ناک خواب اور! آقاے ماضی چیخ مار کر اچھل پڑے۔ انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔ اپنے کمرے کی جانی پہچانی فضادیکھ کر اطمینان کی سانس لی۔ ہمیشہ کی طرح پانی کا جگ انھوں نے سرہانے رکھ چھوڑا تھا۔ ایک دو ٹھنڈے ٹھنڈے گھونٹ بھر کر ان کے حواس کچھ ٹھکانے
روضے والی
غلام حسین ساعدی
1 مہینے کے اندر اندر میں نے قُم کے تین پھیرے کیے۔ آخری پھیرے میں جیسے میرا دل بول رہا تھا کہ کام بگڑ جائے گا، پھر بھی میں آدھی رات کو ایک کھڑکھڑیا لاری میں چل کر صبح ہوتے سید اسد اللہ کے گھر جا پہنچی۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو عزیزہ خانم باہر نکلیں۔ مجھے
بہائے عشق
شین پرتو
سورنا کا بیٹا ہیرتا دریائے زرینمند کے کنارے اپنی آبائی جاگیر پر ایک وسیع اور پرشکوہ محل میں رہتا تھا۔ ہیرتا سورنا کا اکلوتا بیٹا تھا اور سورنا اشکانی بادشاہ ارد کا وہ زبردست سپہ سالار تھا جس نے بین النہرین کے علاقے میں رومیوں کو شکست فاش دی تھی۔ اسی
چم چچڑ
1 میرا باپ کوئی خاص پڑھا لکھا قابل آدمی نہیں تھا۔ زبان کے قواعد بھی ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔ البتہ فعل نہی سے خوب واقف تھا، ’’نہ کرو‘‘، ’’نہ جاؤ‘‘، ’’نہ بولو‘‘، اور اگر بس چلتا تو، ’’سانس نہ لو۔‘‘ میں چھوٹا تھا اس لیے وہ میرے پیچھے زیادہ پڑا رہتا
کنکریٹ کے انباروں کے ادھر
جمال میر صادقی
ایک دن صبح مسٹر عارفی دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلے تو ان کے ساتھ یہ عجیب معاملہ پیش آیا۔ مسٹر عارفی شہر کے شمالی علاقے میں جدید وضع کے ایک نو تعمیر مکان میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی عمر چالیس پینتالیس سال کی رہی ہوگی۔ چھوٹا قد، ڈھلکے
بھکاری
غلام حسین ساعدی
صحرا۔ بیچوں بیچ میں ایک کنواں جس کے گرد کانٹوں دار تار کی باڑھ کھنچی ہوئی ہے۔ باڑھ کے سلاخچے کے پاس ایک بڑا سا ڈول رکھا ہوا ہے۔ ڈول پر موٹی رسی لپٹی ہوئی ہے۔ مسافر، تھکا ہارا اور ننگے پاؤں، پتلون قمیص پہنے، پسینے میں تر بتر، اسٹیج پر آتا ہے۔ بہت