نیر مسعود کا تعارف
اصلی نام : سید نیر مسعود رضوی
پیدائش : 16 Nov 1936 | لکھنؤ, اتر پردیش
وفات : 24 Jul 2017
رشتہ داروں : سید مسعود حسن رضوی ادیب (والد), تمثال مسعود (بیٹا)
LCCN :n81139633
Awards : ساہتیہ اکادمی ایوارڈ(2001) | سرسوتی سمان(2007)
شناخت: ممتاز افسانہ نگار، محقق، مترجم اور اردو فکشن کے منفرد اسلوب نگار
نیر مسعود 16 نومبر 1936ء کو لکھنؤ میں معروف ناقد اور ادیب سید مسعود حسن رضوی ’’ادیب‘‘ کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کیا اور بعد ازاں الہ آباد یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج بریلی سے ہوا، پھر لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی سے وابستہ ہوگئے اور 1996ء میں پروفیسر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔
نیر مسعود اردو افسانے میں اپنی منفرد، پراسرار اور علامتی فضا کے لیے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں لکھنؤ کی تہذیب، زوال آمادہ معاشرت، خوابناک کیفیت اور انسانی تنہائی نہایت فنکارانہ انداز میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ ان کا شمار اردو کے اُن اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے جدید افسانے کو نئی جمالیاتی جہت عطا کی۔
ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’سیمیا‘‘، ’’طاؤس چمن کی مینا‘‘، ’’عطرِ کافور‘‘ اور ’’گنجفہ‘‘ خاص طور پر معروف ہیں۔ ’’طاؤس چمن کی مینا‘‘ کو اردو کے اہم ترین افسانوی مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نیر مسعود نے تحقیق، تنقید اور ترجمے کے میدان میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی تحقیقی و تنقیدی کتابوں میں ’’رجب علی بیگ سرور: حیات اور کارنامے‘‘، ’’مرثیہ خوانی کا فن‘‘، ’’انیس‘‘، ’’تعبیرِ غالب‘‘ اور ’’ادبستان‘‘ "افسانے کی تلاش' شامل ہیں۔ انہوں نے فرانز کافکا کے افسانوں کے تراجم بھی کیے۔
ان کی نثر اپنے مخصوص آہنگ، تہذیبی شعور اور تخلیقی رمزیت کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2001ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور 2007ء میں سرسوتی سمان سے نوازا گیا۔
وفات: نیر مسعود کا انتقال 24 جولائی 2017ء کو لکھنؤ میں ہوا۔
مددگار لنک : | https://en.wikipedia.org/wiki/Naiyer_Masud
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n81139633