راز مراد آبادی کے اشعار
ہر اک شکست تمنا پہ مسکراتے ہیں
وہ کیا کریں جو مسلسل فریب کھاتے ہیں
کسی کے وعدۂ صبر آزما کی خیر کہ ہم
اب اعتبار کی حد سے گزرتے جاتے ہیں
رنگ و بو کے پردے میں کون یہ خراماں ہے
ہر نفس معطر ہے ہر نظر غزل خواں ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جیسے نظام دہر پہ ہو دسترس انہیں
زلفیں کھلی ادھر کہ ادھر رات ہو گئی
رازؔ کیا کہیے ابھی تک لطف کیوں جینے میں ہے
یادگار عشق رفتہ اک خلش سینے میں ہے
دل کی بساط کیا ہے نگاہوں کا ذکر کیا
سونی پڑی ہے انجمن جاں ترے بغیر
وہ کم نظر ہیں جو دیتے ہیں شمع کو الزام
خود اپنی آگ میں جلتا ہے آپ پروانہ
مدتیں گزری ہیں ترک آرزو کو پھر بھی رازؔ
آج تک اک نقش حسرت دل کے آئینے میں ہے
اظہار شوق عرض وفا سجدۂ نیاز
وہ سامنے جو آئیں تو کیا کیا نہ کیجیے
دل کی بے کیفیوں کو کیا کیجے
فصل گل ہے مگر بہار نہیں
رکتے نہیں ہیں پائے جہت آشنا کہیں
منزل بھی ایک سنگ نشاں رہگزر میں ہے
وہ کیا چھٹے حیات کے عنواں بدل گئے
دنیا سمجھ رہی ہے ابھی جی رہا ہوں میں
رازؔ میرے شعر ہیں افسانہ میرے عشق کا
داستان زندگی ہے شاعری کاہے کو ہے
لاہور رشک گلشن فردوس ہے مگر
بے رنگ و بے نشاط ہے اے جاں ترے بغیر
رکتے نہیں ہیں پائے جہت آشنا کہیں
منزل بھی ایک سنگ نشاں رہگزر میں ہے
اللہ رے التفات و ندامت کی سازشیں
نظریں ملیں تلافئ مافات ہو گئی
کیا مجھے ان کے تغافل میں بھی لطف آنے لگا
آج یہ کیا ہے تغافل میں کمی کاہے کو ہے
اظہار شوق عرض وفا سجدۂ نیاز
وہ سامنے جو آئیں تو کیا کیا نہ کیجئے
اگر سن لے تو ناصح عشق ہو جائے محبت سے
کچھ اس انداز کے کھائے ہیں دھوکے عمر بھر میں نے
اب نہ وہ ساقی نہ وہ محفل نہ رنگیں صحبتیں
زہر کے کچھ گھونٹ ہیں یہ مے کشی کاہے کو ہے
ترک تعلقات کو مدت گزر گئی
اف رے حیات پھر بھی جیے جا رہا ہوں میں
وہ سجدہ جس سے بو آتی ہے زاہد حور و غلماں کی
فریب بندگی کہیے خدا کی بندگی کیوں ہو
ان کے بغیر نیند کہاں چشم شوق میں
یہ اور بات ہے کہ بسر رات ہو گئی
خود اپنی تجلی خود اپنی نگاہیں
محبت میں گزرے ہیں یہ بھی زمانے
حسن کی بارگاہ میں جھوم کے رازؔ پڑھ غزل
فکر رسا کے ساتھ ساتھ تربیت جگر بھی ہے
میں چراغ رہ گزر ہوں ہر مسافر کے لیے
باد صرصر ہو کہ طوفاں رات بھر جلنا مجھے
مری سمت منزل کو بڑھتے جو دیکھا
مرا ساتھ چھوڑا مرے رہنما نے
حشر تک اب کوئی پردے میں رہے
ہم ہی منصور ہوئے جاتے ہیں
اب توجہ ہی نہیں ان کی تو کیا رنگ حیات
مفت کا الزام ہے یہ زندگی کاہے کو ہے
اے کاش جستجو ہی رہے حاصل حیات
عشق و طلب کی موت ہے تکمیل آرزو