راہی معصوم رضا کا تعارف
تخلص : 'راہی'
اصلی نام : معصوم رضا
پیدائش : 01 Sep 1927 | غازی پور, اتر پردیش
وفات : 15 Mar 1992 | ممبئی, مہاراشٹر
LCCN :n84110252
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
راہی معصوم رضا یکم ستمبر 1927ء کو اتر پردیش کے ضلع غازی پور کے گاؤں گنگولی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم غازی پور اور اس کے نواحی علاقوں میں حاصل کی، بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ انہوں نے ہندوستانی ادب (ہندستانی لٹریچر) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور ادبی میدان کو اپنا پیشہ بنایا۔
بعد میں وہ بمبئی (موجودہ ممبئی) منتقل ہوگئے اور ایک کامیاب اسکرین پلے رائٹر کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے 300 سے زائد فلموں کے لیے کہانیاں، اسکرین پلے اور مکالمے تحریر کیے، جن میں مشہور ٹی وی سیریل ’’مہابھارت‘‘ بھی شامل ہے۔
راہی معصوم رضا کی متعدد تخلیقات تقسیمِ ہند کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کرب، انتشار اور انسانی المیوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے ادب میں جاگیردارانہ ہندوستان کی زندگی کے ساتھ ساتھ عام انسانوں کی خوشیاں، محبتیں، دکھ اور محرومیاں بھی نہایت مؤثر انداز میں پیش کی گئی ہیں۔
ان کی اہم تخلیقات میں ’’آدھا گاؤں‘‘ (ناول)، ’’ٹوپی شکلا‘‘ (ناول)، ’’اوس کی بوند‘‘ (ناول)، ’’نیم کا پیڑ‘‘ (ناول اور ٹی وی سیریل)، ’’میں تلسی تیرے آنگن کی‘‘ (اسکرپٹ رائٹنگ) اور ’’مہابھارت‘‘ (ٹی وی سیریل) شامل ہیں۔
انہیں 1979ء میں فلم ’’میں تلسی تیرے آنگن کی‘‘ کے لیے فلم فیئر کا بہترین اعزاز بھی حاصل ہوا۔ راہی معصوم رضا کا انتقال 15 مارچ 1992ء کو ممبئی میں ہوا۔
موضوعات
اتھارٹی کنٹرول :لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر : n84110252