Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Rahi Masoom Raza's Photo'

راہی معصوم رضا

1927 - 1992 | علی گڑہ, انڈیا

معروف اردو شاعر، ناول نگار اور مکالمہ نگار، ٹی وی سیریل ’ مہا بھارت‘ کے مکالموں کے لئے مشہور

معروف اردو شاعر، ناول نگار اور مکالمہ نگار، ٹی وی سیریل ’ مہا بھارت‘ کے مکالموں کے لئے مشہور

راہی معصوم رضا کے اشعار

8.3K
Favorite

باعتبار

اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی

ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی

ہاں انہیں لوگوں سے دنیا میں شکایت ہے ہمیں

ہاں وہی لوگ جو اکثر ہمیں یاد آئے ہیں

یہ چراغ جیسے لمحے کہیں رائیگاں نہ جائیں

کوئی خواب دیکھ ڈالو کوئی انقلاب لاؤ

دل کی کھیتی سوکھ رہی ہے کیسی یہ برسات ہوئی

خوابوں کے بادل آتے ہیں لیکن آگ برستی ہے

زندگی ڈھونڈھ لے تو بھی کسی دیوانے کو

اس کے گیسو تو مرے پیار نے سلجھائے ہیں

ہم نے اپنے جینے کی یہ راہ نکالی یارو

ہر دریا پر تھوڑی تھوڑی پیاس بجھا لی یارو

بجلیاں ڈھونڈھ رہی ہیں کوئی گرنے کی جگہ

اتنے محفوظ نہیں آج نشیمن والے

کیسے کوئی تصویر بناؤں رنگ اڑے جاتے ہیں

گھولے کتنے رنگ مگر ہے چاند کا پیالہ خالی

غیر اندھیرے کی آنکھوں میں گھول کے آنسو اپنے

جب رات آئی شوق سحر کی شمع جلالی یارو

کبھی مقتل رہا ہوگا یقیناً

جہاں زنجیر کی جھنکار ٹھہری

میرے ساتھ مرا سورج ہے میرے ساتھ مرا سایہ

تنہائی تو ان کی دیکھوں جن کے ساتھ زمانہ ہے

کیوں اتنے مغرور ہیں راہیؔ کیوں اتنا اتراتے ہیں

گنگا تٹ ویران نہ ہوگا اک ان کے اٹھ جانے سے

برسوں بعد اس ہجر کے پیڑ پہ مور آئے

برسوں بعد اس پیڑ پہ کوئل بولی ہے

سر بکف گھر سے نکلنا تو ہے شرط اول

اتنا آسان نہیں چاک گریباں ہونا

خزاں کے رنگ بھی ایسے برے نہیں لیکن

یہ رنگ ٹھیک نہیں میرے خوبرو کے لئے

اب تو ضرورت کی اک پگڑی ہے یاروں کے کندھوں پر

ہم لوگوں کے ساتھ یہاں سے رسم صلیب و دار اٹھی

دشت جنوں کی ضد ہے کہ لکھ خیریت کا خط

میں پوچھتا ہوں کس کو لکھوں اور کہاں لکھوں

مزا آتا نصیحت میں بھی شاید

اگر ناصح ذرا دیوانہ ہوتا

لگتا ہے شہروں میں جنوں کے موسم اب نہیں آتے

ہم تو صحرا میں بیٹھے ہیں دھوپ کا فرش بچھائے

ململ کی ساری ہے تن پر ہاتھوں میں پچکاری ہے

ہم نے سنا ہے اس کی گلی میں ہولی کی تیاری ہے

دھوپ کڑی ہے سایہ مت دے سائے کا امکان تو ہے

اے صحرا تجھ سے تو ہماری اتنی پرانی یاری ہے

مہک پہچانتی ہے خون دل کی

زمین کوچۂ دل دار ٹھہری

ہم برسوں سے پتھر کے اس شہر میں ہیں

کیسا ہے شیشے کا جہاں معلوم نہیں

میں اک گھائل بوڑھا برگد میری بات سنو

لگتا ہے کل ہر وادی سے صحرا نکلے گا

کل جن آنکھوں میں اگا کرتے تھے خواب

آج ان میں کل کا اندیشہ ملا

کہیں سورج ملے تو اس سے کہنا

ہماری رات لمبی ہو رہی ہے

سناٹا پیڑوں پر بیٹھا سناٹا ہر چھت پر

سناٹے سے سب ڈرتے ہیں کون آواز لگائے

اپنا سر وہ کیسے جھکائے اس ساگر کی چوکھٹ پر

گنگا جی کے تٹ پر یارو جس جوگی کا ٹھکانہ ہے

جس کی پیاس کو کم پڑتی ہو صحرا کی پہنائی بھی

اس کی پیاس نہ ناپی جائے ساقی کے پیمانے سے

سولیاں نصب رہیں قحط جنوں ہے بھی تو کیا

کچھ نہ کچھ اب بھی نکل آئیں گے گردن والے

تیری محفل میں وفا کی تو کوئی قدر نہیں

ہاں مگر تذکرۂ اہل وفا ہوتا ہے

اہل جنوں کی آہٹ سن کر دشت وفا بے چین ہوا

ہر ہر گوشہ سے پچھلی زنجیروں کی جھنکار اٹھی

نہ جب اہل خرد نے بات مانی

تو پھر شرط صلیب و دار ٹھہری

اس کے گلابی رخساروں پر پھیلی بوند پسینے کی

یا کچنار کے دامن پر یہ اوس کی ہلکی دھاری ہے

مکتب عشق کا یہ پہلا سبق ہے راہیؔ

ہاتھ کٹوا لے مگر ہاتھ کو پیالہ نہ بنا

سچ اگر بولوں تو کٹتی ہے زبان

اور چپ رہنے میں رسوائی ہے

وہ زیارت گہہ مجنوں بہت آباد ہوئی

اپنی وحشت کے لئے اب کوئی ویرانہ بنا

جس کو مل جانا ہو مل جاؤ مگر مشکل سے

دیکھو اس شہر میں آنا تو نہ آساں ہونا

جس کے آگے آگے بادل جس کے پیچھے خوشبو

ہم صحرا والوں تک کوئی وہ موسم لے آئے

کل کی جانب دیکھیں کیسے ایک بڑی دشواری ہے

آنکھ اٹھانا سہل نہیں ہے سپنا اتنا بھاری ہے

جاگ اور دامان وحشت چاک کر

صرف آنکھیں ہی نہ مل اے بمبئی

گیا نہ کوئی مرے بعد کوئے قاتل تک

ترس گیا کف قاتل رگ گلو کے لئے

Recitation

بولیے