رؤف رحیم کے اشعار
ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں
لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے
ملے گی سیٹ الیکشن میں آپ کو اک دن
اگر یہ چمچہ گری کامیاب ہو جائے
اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا
اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے
ہے بجٹ گھاٹے میں جرمانے ضروری ہیں یہاں
اس لیے سرکار میری لوٹ کر کھانے کو ہے
نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر
ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے
جو مذہبی تھے مسائل وہ اب سیاسی ہیں
یہیں تو دال میں کالا ہے کیا کیا جائے
بد شکل ہے ضعیف ہے دلہن تو کیا ہوا
لاکھوں کی جائیداد بھی میری نظر میں ہے
اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ
تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر
چاند سورج زمیں سے اگتے ہیں
شاعری جب جدید ہوتی ہے
کہنے کی ہے آزادی مگر بات یہ سچ ہے
اوروں کی کوئی بات وہ چلنے نہیں دیتے
شاید اسی لیے تھا وہ غرق مطالعہ
تصویر پدمنیؔ کی تھی چسپاں کتاب میں
قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے
دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ
سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ
گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ
نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے
کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے
غصہ نکالتا ہے جو عملے پہ اے رحیمؔ
افسر عجب نہیں ہے کہ بیگم کے ڈر میں ہے
ووٹ لیتے ہو بھول جاتے ہو
دیکھو غداریاں نہیں اچھی
ڈاکٹر آج کے تاجر ہی نہ ہونے پاتے
چارہ سازوں سے اگر بچنے کا چارا ہوتا
جب سے رخصت ہوا شباب رحیمؔ
تب سے میں مائل خضاب ہوا
واعظ کے مشورہ پہ عمل کس طرح کریں
کہتا ہے صرف پڑھ کے وہ سمجھا کئے بغیر
کرو نہ اتنا تکبر جمال پر اپنے
ملو گی ہاتھ جو رخصت شباب ہو جائے
فیشن سے ان کے دھوکا ہوا ہے مجھے رحیمؔ
مادہ سمجھ کے چھیڑنے والا تھا نر کو میں
شیخ صاحب سنو ضعیفی میں
دل کی بیماریاں نہیں اچھی
ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر
نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر
کوئی فساد چوری ڈکیتی نہ حادثہ
حیران ہوں میں آج کا اخبار دیکھ کر
اب ترنم کی روایت بھی پرانی ہو گئی
ایک شاعر اپنی غزلیں ساز پر گانے کو ہے