Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رؤف رحیم کے اشعار

189
Favorite

باعتبار

نرس کو دیکھ کے آ جاتی ہے منہ پہ رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ملت کی آبرو کو ملاتا ہے خاک میں

لیڈر ہمارا کتنا بڑا خاکسار ہے

ملے گی سیٹ الیکشن میں آپ کو اک دن

اگر یہ چمچہ گری کامیاب ہو جائے

اپنے استاد کے شعروں کا تیا پانچہ کیا

اے رحیم آپ کے فن میں یہ کمال اچھا ہے

ہے بجٹ گھاٹے میں جرمانے ضروری ہیں یہاں

اس لیے سرکار میری لوٹ کر کھانے کو ہے

نہیں ہے بحر میں بے وزن ہے رحیمؔ مگر

ہماری شاعری سر میں ہے اور تال میں ہے

جو مذہبی تھے مسائل وہ اب سیاسی ہیں

یہیں تو دال میں کالا ہے کیا کیا جائے

سارے احباب میں بد نام تمہیں کر دے گی

اپنے احوال پڑوسن سے چھپا کر رکھنا

بد شکل ہے ضعیف ہے دلہن تو کیا ہوا

لاکھوں کی جائیداد بھی میری نظر میں ہے

اگر تو کانا راجہ ہے تو اندھوں کا بنا حلقہ

تو اپنی شاعری کے واسطے میدان پیدا کر

چاند سورج زمیں سے اگتے ہیں

شاعری جب جدید ہوتی ہے

کہنے کی ہے آزادی مگر بات یہ سچ ہے

اوروں کی کوئی بات وہ چلنے نہیں دیتے

شاید اسی لیے تھا وہ غرق مطالعہ

تصویر پدمنیؔ کی تھی چسپاں کتاب میں

قائل ہیں ذائقے کے غرض کیا ہے رنگ سے

دستر پہ دیکھتے ہی نہیں ہم مٹن کا رنگ

سارے اساتذہ سے چراؤ سخن کا رنگ

گر کچھ نکھارنا ہو تمہیں اپنے فن کا رنگ

نہ حرام اچھا ہے یارو نہ حلال اچھا ہے

کھا کے پچ جائے جو ہم کو وہی مال اچھا ہے

غصہ نکالتا ہے جو عملے پہ اے رحیمؔ

افسر عجب نہیں ہے کہ بیگم کے ڈر میں ہے

ووٹ لیتے ہو بھول جاتے ہو

دیکھو غداریاں نہیں اچھی

ڈاکٹر آج کے تاجر ہی نہ ہونے پاتے

چارہ سازوں سے اگر بچنے کا چارا ہوتا

جب سے رخصت ہوا شباب رحیمؔ

تب سے میں مائل خضاب ہوا

واعظ کے مشورہ پہ عمل کس طرح کریں

کہتا ہے صرف پڑھ کے وہ سمجھا کئے بغیر

کرو نہ اتنا تکبر جمال پر اپنے

ملو گی ہاتھ جو رخصت شباب ہو جائے

ہے حماقت رحیمؔ شادی بھی

اس سے مٹی پلید ہوتی ہے

دور تک نام کی تشہیر اگر ہے منظور

جاری تنقید ادیبوں پہ برابر رکھنا

فیشن سے ان کے دھوکا ہوا ہے مجھے رحیمؔ

مادہ سمجھ کے چھیڑنے والا تھا نر کو میں

اسکول کی تعلیم نے گل ایسا کھلایا

اب آنکھیں دکھاتا ہے بھتیجا مرے آگے

مجھ سے بیگم کا تقابل تو فقط اتنا ہے

میں دیا ہوں تو وہ طوفان خدا خیر کرے

غریبوں کا بہا کر خون ہمدردی جتاتے ہو

کھلونے ہاتھ میں دے دے کے بہلایا نہیں کرتے

ہم نام پہ فرقوں کے لڑائیں گے رحیمؔ اب

یوں پرورش دیر و حرم کرتے رہیں گے

شیخ صاحب سنو ضعیفی میں

دل کی بیماریاں نہیں اچھی

مردہ بتا کے زندوں کو پہنچایا مردہ گھر

کتنا بڑا کمال مرے ڈاکٹر میں ہے

راتوں کو بھی غازہ سے چمکتا ہے وہ چہرہ

سورج وہ کبھی حسن کا ڈھلنے نہیں دیتے

مجموعہ اپنے صرفے سے کیسے چھپاؤں میں

چارہ نہیں ہے چندہ اکٹھا کئے بغیر

بھروسے پر کسی لیڈر کے رہنا اک حماقت ہے

یہ سوکھے پیڑ ہیں یارو کبھی سایہ نہیں کرتے

حوروں پہ ہے نگاہ گو مرقد میں پاؤں ہیں

واعظ اخیر عمر میں کیا تیرا ڈھنگ ہے

ترنم میں گویے کی طرح سے تان پیدا کر

نئے انداز سے شعروں میں اپنے جان پیدا کر

وظیفہ پڑھ کے میں چندے وصول کرتا ہوں

پکارتے ہیں سبھی اب وظیفہ خوار مجھے

ہر روز کیا کرتے ہیں وہ اک نیا وعدہ

عشاق کو ہاتھوں سے نکلنے نہیں دیتے

ہم اپنی ناک کھجانے سے ہو گئے قاصر

ہمارے سامنے نکٹا ہے کیا کیا جائے

ساری غزلیں سنا کے چھوڑا ہے

اس سے ملنا تو اک عذاب ہوا

خدا نخواستہ وہ بے نقاب ہو جائے

تو زندگانی ہماری عذاب ہو جائے

کوئی فساد چوری ڈکیتی نہ حادثہ

حیران ہوں میں آج کا اخبار دیکھ کر

سوکھے پیڑوں کی طرح یہ لیڈر

ہم پہ سایہ ذرا نہیں کرتے

رہتے الگ تو عیش بھی کرتے الگ الگ

ماں باپ اپنے بن گئے ہڈی کباب میں

لیڈر کی یہ پہچان کہ وہ پھولتا جائے

شاعر کی یہ پہچان کہ موٹا نہیں ہوتا

شاید کوئی حسین ہے محفل میں اے رحیمؔ

ہلچل مچی ہوئی ہے جو ہر شیخ و شاب میں

اب ترنم کی روایت بھی پرانی ہو گئی

ایک شاعر اپنی غزلیں ساز پر گانے کو ہے

میں ناقدین کے نرغے میں پھنس گیا ہوں رحیمؔ

دکھائی دیتی نہیں ہے رہ فرار مجھے

گر لاٹری اٹھ جائے تو کیا ٹھاٹ سے گزرے

یہ خواب ہے اندھوں کا جو پورا نہیں ہوتا

Recitation

بولیے