عمیر منظر

غزل 6

اشعار 10

بڑھتے چلے گئے جو وہ منزل کو پا گئے

میں پتھروں سے پاؤں بچانے میں رہ گیا

ساتھی مرے کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے

میں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیا

یہ میرے ساتھی ہیں پیارے ساتھی مگر انہیں بھی نہیں گوارا

میں اپنی وحشت کے مقبرے سے نئی تمنا کے خواب دیکھوں

مرحلے اور آنے والے ہیں

تیر اپنا ابھی کمان میں رکھ

یہ تو سچ ہے کہ وہ ستم گر ہے

در پر آیا ہے تو امان میں رکھ

کتاب 20

افسانوی ادب اور حیات اللہ انصاری

 

2019

ا نیس کی مرثیہ نگاری

 

1951

باتیں سخن کی

 

2018

بیسویں صدی کے چند اکابر غزل گو

 

1966

حفیظ کے گیت اور نظمیں

 

1941

جگر کے خطوط

 

1965

خوش نویسان طب ایک جائزہ

 

2019

کلیات شیفتہ

 

 

مجذوبؔ اور ان کا کلام

 

1957

مثنویات میر حسن

سحر البیان، گلزار ارم، رموز العارفین

1966

آڈیو 5

بنا کے وہم و گماں کی دنیا حقیقتوں کے سراب دیکھوں

جب انسان کو اپنا کچھ ادراک ہوا

خود کو ہر روز امتحان میں رکھ

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

"لکھنؤ" کے مزید عطیہ کار

  • اسلم محمود اسلم محمود