عالؔی جس کا فن سخن میں اک انداز نرالا تھا

جمیل الدین عالی

عالؔی جس کا فن سخن میں اک انداز نرالا تھا

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    عالؔی جس کا فن سخن میں اک انداز نرالا تھا

    نقد سخن میں ذکر یہ آیا دوہے پڑھنے والا تھا

    جانے کیوں لوگوں کی نظریں تجھ تک پہنچیں ہم نے تو

    برسوں بعد غزل کی رو میں اک مضمون نکالا تھا

    کیا وہ گھٹا ترے گھر سے اٹھی کیا وہ تو نے بھیجی تھی

    بوندیں روشن روشن تھیں اور بادل کالا کالا تھا

    اجنبیوں سے دھوکے کھانا پھر بھی سمجھ میں آتا ہے

    اس کے لیے کیا کہتے ہو وہ شخص تو دیکھا بھالا تھا

    ہم نہ ملے اور جب بھی ملے تو دونوں نے اقرار کیا

    ہاں وہ وعدہ ایسا تھا جو پورا ہونے والا تھا

    تپتی دھوپوں میں بھی آ کر اپنی یاد دلاتے ہیں

    چاند نگر کے انشاؔ صاحب آلے جن کا ہالا تھا

    مآخذ:

    • کتاب : Urdu International (Pg. 119)
    • Author : Ashfaq Hussain
    • مطبع : 9, Thirty fifth Street, 2, Toronto, Ontario, Canada M8w 3J8 (Nov. Dec. Jan. 1982, Volume 1, No.2)
    • اشاعت : Nov. Dec. Jan. 1982, Volume 1, No.2

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY