عام ہے اذن کہ جو چاہو ہوا پر لکھ دو

فرحان سالم

عام ہے اذن کہ جو چاہو ہوا پر لکھ دو

فرحان سالم

MORE BY فرحان سالم

    عام ہے اذن کہ جو چاہو ہوا پر لکھ دو

    عشق زندہ ہے ذرا دست صبا پر لکھ دو

    آ رہے ہیں سبھی اپنوں سبھی غیروں کے سلام

    تم بھی دشنام کوئی میری قبا پر لکھ دو

    پھر جلا ہے کسی آنگن میں کوئی تازہ چراغ

    پھر کوئی قتل کسی دست جفا پر لکھ دو

    حوصلہ سب نے بڑھایا ہے مرے منصف کا

    تم بھی انعام کوئی میری سزا پر لکھ دو

    روز لکھ لکھ کے جو دستار پہ لاتے ہیں سپاس

    خلد ان کو بھی کوئی نام خدا پر لکھ دو

    آندھیاں تیز ہیں میں آبلہ پا تم تنہا

    اب بھی چاہو تو مرا نام ردا پر لکھ دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY