آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں کیا بات کروں

احمد رضوان

آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں کیا بات کروں

احمد رضوان

MORE BY احمد رضوان

    آتا ہی نہیں ہونے کا یقیں کیا بات کروں

    ہے دور بہت وہ خواب نشیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں جو عکس تھا میری آنکھوں میں

    وہ چھوڑ گیا اک شام کہیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں جو گھڑیاں میری ہم دم تھیں

    وہ گھڑیاں ہی آزار بنیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں مرے ساتھی مجھ سے چھوٹ گئے

    وہ لوگ نہیں وہ خواب نہیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں یہ لوگ بھلا کب سنتے ہیں

    سب باتیں اندر ڈوب گئیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں اپنوں کی جتنی لاشیں تھیں

    مرے سینے میں سب آن گریں کیا بات کروں

    کیا بات کروں جو باتیں تم سے کرنی تھیں

    اب ان باتوں کا وقت نہیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں کبھی پانی باتیں کرتا تھا

    یہ دریا اس کی خشک زمیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں صحرا میں چاند اکیلا ہے

    اور میرے ساتھ بھی کوئی نہیں کیا بات کروں

    کیا بات کروں رضوانؔ کہ رونا آتا ہے

    سب باتیں اس کی بات سے تھیں کیا بات کروں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY