اب یہی رنج بے دلی مجھ کو مٹائے یا بنائے

سحر انصاری

اب یہی رنج بے دلی مجھ کو مٹائے یا بنائے

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    اب یہی رنج بے دلی مجھ کو مٹائے یا بنائے

    لاکھ وہ مہرباں سہی اس کی طرف بھی کون جائے

    روٹھے ہوئے وجود بھی درد انا سے کم نہیں

    کیوں میں کسی کے ناز اٹھاؤں مجھ کو بھی کوئی کیوں منائے

    سایۂ قرب میں ملیں آ وہی دونوں وقت پھر

    ہونٹ پہ صبح جگمگائے آنکھ میں شام مسکرائے

    دن کو دیار دید میں وسعت لمس سے گریز

    شب کو حصار چشم میں خود ہی مثل خواب آئے

    ختم ہیں واقعات بھی زیست کی واردات بھی

    اب وہ جھکی جھکی نظر خود کوئی داستاں سنائے

    مونس خلوت وفا آج بھی ہے وہ دل کہ جو

    شمع کی لو میں تھرتھرائے چاند کے ساتھ ڈوب جائے

    موت کے بعد زیست کی بحث میں مبتلا تھے لوگ

    ہم تو سحرؔ گزر گئے تہمت زندگی اٹھائے

    مآخذ :
    • کتاب : namuud (Pg. 85)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY