اگر زباں سے نہ اشک رواں سے گزرے گا

نظمی سکندری آبادی

اگر زباں سے نہ اشک رواں سے گزرے گا

نظمی سکندری آبادی

MORE BYنظمی سکندری آبادی

    اگر زباں سے نہ اشک رواں سے گزرے گا

    تو پھر غبار طبیعت کہاں سے گزرے گا

    ہمارے نقش قدم راہ میں بنائے رکھو

    ابھی زمانہ اسی کہکشاں سے گزرے گا

    ابھی تو بجلیاں ٹوٹیں گی خرمن دل پر

    ابھی تو قافلہ شہر بتاں سے گزرے گا

    نصیب ہوں گی اسے سرفرازیاں کیا کیا

    جو سر جھکا کے ترے آستاں سے گزرے گا

    اسی سے راستے پوچھیں گے خیریت میری

    وہ میرے شہر میں تنہا جہاں سے گزرے گا

    میں سوچتا ہوں رہے گا جو فاصلہ قائم

    زمانہ ان کے مرے درمیاں سے گزرے گا

    نصیب ہوں گی اسے کامیابیاں نظمیؔ

    خوشی کے ساتھ جو ہر امتحاں سے گزرے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY