عکس زخموں کا جبیں پر نہیں آنے دیتا

ظفر صہبائی

عکس زخموں کا جبیں پر نہیں آنے دیتا

ظفر صہبائی

MORE BYظفر صہبائی

    عکس زخموں کا جبیں پر نہیں آنے دیتا

    میں خراش اپنے یقیں پر نہیں آنے دیتا

    اس لیے میں نے خطا کی تھی کہ دنیا دیکھوں

    ورنہ وہ مجھ کو زمیں پر نہیں آنے دیتا

    عمر بھر سینچتے رہنے کی سزا پائی ہے

    پیڑ اب چھاؤں ہمیں پر نہیں آنے دیتا

    جھوٹ بھی سچ کی طرح بولنا آتا ہے اسے

    کوئی لکنت بھی کہیں پر نہیں آنے دیتا

    اپنے اس عہد کا انصاف ہے طاقت کا غلام

    آنچ بھی کرسی نشیں پر نہیں آنے دیتا

    چاہتا ہوں کہ اسے پوجنا چھوڑوں لیکن

    کفر جو خوں میں ہے دیں پر نہیں آنے دیتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY