اپنے ماحول سے کچھ یوں بھی تو گھبرائے نہ تھے

افضل منہاس

اپنے ماحول سے کچھ یوں بھی تو گھبرائے نہ تھے

افضل منہاس

MORE BYافضل منہاس

    اپنے ماحول سے کچھ یوں بھی تو گھبرائے نہ تھے

    سنگ لپٹے ہوئے پھولوں میں نظر آئے نہ تھے

    درد زنجیر کی صورت ہے دلوں میں موجود

    اس سے پہلے تو کبھی اس کے یہ پیرائے نہ تھے

    چند بکھرے ہوئے ریزوں کے سوا کچھ بھی نہیں

    سوچتے ہیں کہ چٹانوں سے بھی ٹکرائے نہ تھے

    تو نے خود روز ازل ہم سے پناہیں مانگیں

    زندگی ہم تجھے دامن میں چھپا لائے نہ تھے

    ہم کہ ہر دور کی تزئیں میں رہے ہیں شامل

    اب بھی پچھتائے نہیں پہلے بھی پچھتائے نہ تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY