دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی

مخمور دہلوی

دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی

مخمور دہلوی

MORE BY مخمور دہلوی

    دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتی

    وہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتی

    اسے تو راہ میں ارباب ہمت چھوڑ دیتے ہیں

    کسی کے ساتھ منزل تک تن آسانی نہیں جاتی

    کسے ملتی ہیں وہ آنکھیں محبت میں جو روتی ہیں

    مبارک ہیں وہ آنسو جن کی ارزانی نہیں جاتی

    ابھرتا ہی نہیں دل ڈوب کر بحر محبت میں

    جب آ جاتی ہے اس دریا میں طغیانی نہیں جاتی

    گدائی میں بھی مجھ پر شان استغنا برستی ہے

    مرے سر سے ہوائے تاج سلطانی نہیں جاتی

    مقیم دل ہیں وہ ارمان جو پورے نہیں ہوتے

    یہ وہ آباد گھر ہے جس کی ویرانی نہیں جاتی

    کچھ ایسا پرتو حسن ازل نے کر دیا روشن

    قیامت تک تو اب ذروں کی تابانی نہیں جاتی

    کچھ ایسے برگزیدہ لوگ بھی ہیں جن کے ہاتھوں سے

    چھڑا کر اپنا دامن پاک دامنی نہیں جاتی

    ہجوم یاس میں بھی زندگی پر مسکراتا ہوں

    مصیبت میں بھی میری خندہ پیشانی نہیں جاتی

    مآخذ:

    • Book: Aazadi ke baad dehli men urdu gazal (Pg. 330)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites