دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے

توصیف تبسم

دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے

توصیف تبسم

MORE BYتوصیف تبسم

    دل تھا پہلو میں تو کہتے تھے تمنا کیا ہے

    اب وہ آنکھوں میں تلاطم ہے کہ دریا کیا ہے

    شوق کہتا ہے کہ ہر جسم کو سجدہ کیجے

    آنکھ کہتی ہے کہ تو نے ابھی دیکھا کیا ہے

    ٹوٹ کر شاخ سے اک برگ خزاں آمادہ

    سوچتا ہے کہ گزرتا ہوا جھونکا کیا ہے

    کیا یہ سچ ہے کہ خزاں میں بھی چمن کھلتے ہیں

    میرے دامن میں لہو ہے تو مہکتا کیا ہے

    دل پہ قابو ہو تو ہم بھی سر محفل دیکھیں

    وہ خم زلف ہے کیا صورت زیبا کیا ہے

    ٹھہرو اور ایک نظر وقت کی تحریر پڑھو

    ریگ ساحل پہ رم موج نے لکھا کیا ہے

    کوئی رہبر ہے نہ رستہ ہے نہ منزل توصیفؔ

    ہم کہ گرد رہ صرصر ہیں ہمارا کیا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 158)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY