Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا

مرزا غالب

اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا

    غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا

    EXPLANATION #1

    ذرا دیکھو کہ عشق پر بھروسا کرنا آدمی کو کیسے برباد کر دیتا ہے۔

    آہ تو غیر نے بھری، مگر ناراض وہ مجھ ہی سے ہو گیا۔

    مرزا غالب یہاں عشق پر اعتبار کے انجام کو “خانہ خرابی” کہہ کر دکھاتے ہیں۔ محبوب کے نزدیک انصاف کی جگہ بدگمانی آ جاتی ہے، اس لیے قصور کسی اور کا ہو تو بھی سزا عاشق کو ملتی ہے۔ شعر میں تلخ طنز ہے کہ محبت میں دلیل نہیں چلتی، صرف شک چلتا ہے۔ یہی بےبسی اور ناانصافی اس کا جذباتی مرکز ہے۔

    محمد اعظم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے