اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
EXPLANATION #1
ذرا دیکھو کہ عشق پر بھروسا کرنا آدمی کو کیسے برباد کر دیتا ہے۔
آہ تو غیر نے بھری، مگر ناراض وہ مجھ ہی سے ہو گیا۔
مرزا غالب یہاں عشق پر اعتبار کے انجام کو “خانہ خرابی” کہہ کر دکھاتے ہیں۔ محبوب کے نزدیک انصاف کی جگہ بدگمانی آ جاتی ہے، اس لیے قصور کسی اور کا ہو تو بھی سزا عاشق کو ملتی ہے۔ شعر میں تلخ طنز ہے کہ محبت میں دلیل نہیں چلتی، صرف شک چلتا ہے۔ یہی بےبسی اور ناانصافی اس کا جذباتی مرکز ہے۔
محمد اعظم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.