فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی

انجم اعظمی

فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی

انجم اعظمی

MORE BYانجم اعظمی

    فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی

    برا ہی کیا ہے اگر تیری جستجو کر لی

    غلط ہے جذبۂ دل پر نہیں کوئی الزام

    خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی

    بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے

    تمہارے رند نے توبہ بھی روبرو کر لی

    وفا کے نام سے ڈرتا ہوں اے شہ خوباں

    تم آئے بھی تو نظر جانب سبو کر لی

    کہاں سے آئیں گے انداز بے پناہی کے

    ابھی سے جیب تمنا اگر رفو کر لی

    زمانہ دے نہ سکا فرصت جنوں انجمؔ

    بہت ہوا تو گھڑی بھر کو ہا و ہو کر لی

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY