گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

آشفتہ چنگیزی

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

آشفتہ چنگیزی

MORE BY آشفتہ چنگیزی

    گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

    تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے

    سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار

    یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے

    الاؤ ٹھنڈے ہیں لوگوں نے جاگنا چھوڑا

    کہانی ساتھ ہے لیکن کسے سنائیں گے

    سنا ہے آگے کہیں سمتیں بانٹی جاتی ہیں

    تم اپنی راہ چنو ساتھ چل نہ پائیں گے

    دعائیں لوریاں ماؤں کے پاس چھوڑ آئے

    بس ایک نیند بچی ہے خرید لائیں گے

    ضرور تجھ سا بھی ہوگا کوئی زمانے میں

    کہاں تلک تری یادوں سے جی لگائیں گے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY