ہو تیری یاد کا دل میں گزر آہستہ آہستہ

حسن اکبر کمال

ہو تیری یاد کا دل میں گزر آہستہ آہستہ

حسن اکبر کمال

MORE BYحسن اکبر کمال

    ہو تیری یاد کا دل میں گزر آہستہ آہستہ

    کرے یہ چاند صحرا میں سفر آہستہ آہستہ

    بہت تیزی سے دنیا چھین لے گی جب تجھے مجھ سے

    تو پھر اس دل میں ایسے مت اتر آہستہ آہستہ

    کہ ہم دھوکے میں رکھیں دوستوں کو خوش کلامی سے

    ہمیں آ ہی گیا یہ بھی ہنر آہستہ آہستہ

    کہیں سے ایک ویرانی کا سایا پھیلتا آیا

    ہوئے بے رنگ سب دیوار و در آہستہ آہستہ

    نہ ٹوٹے اور کچھ دن تجھ سے رشتہ اس طرح میرا

    مجھے برباد کر دے تو مگر آہستہ آہستہ

    یہ خاموشی یہاں کا حسن ہے رکھنا خیال اس کا

    کمالؔ اس دشت ویراں سے گزر آہستہ آہستہ

    مأخذ :
    • کتاب : khizaa.n mera mausam (Pg. 137)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY