اتنا کیوں شرماتے ہیں

آشفتہ چنگیزی

اتنا کیوں شرماتے ہیں

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    اتنا کیوں شرماتے ہیں

    وعدے آخر وعدے ہیں

    لکھا لکھایا دھو ڈالا

    سارے ورق پھر سادے ہیں

    تجھ کو بھی کیوں یاد رکھا

    سوچ کے اب پچھتاتے ہیں

    ریت محل دو چار بچے

    یہ بھی گرنے والے ہیں

    جائیں کہیں بھی تجھ کو کیا

    شہر سے تیرے جاتے ہیں

    گھر کے اندر جانے کے

    اور کئی دروازے ہیں

    انگلی پکڑ کے ساتھ چلے

    دوڑ میں ہم سے آگے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY