جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں

فارغ بخاری

جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    جبیں کا چاند بنوں آنکھ کا ستارا بنوں

    کسی جمال شفق تاب کا سہارا بنوں

    محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں

    خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں

    یہ بھیگی بھیگی ہواؤں میں سرد سرد مہک

    جو دل کی آگ میں اترے تو کچھ گوارا بنوں

    ہر ایک غنچہ دہن کا یہی تقاضا ہے

    جمالیات کا میں آخری شمارہ بنوں

    زمانہ منظر موہوم کا ہے شیدائی

    یہ آرزو ہے کوئی دور کا نظارا بنوں

    ہر ایک موج ہو اٹھتی جوانیوں کی دھنک

    بنوں تو ایسے سمندر کا میں کنارہ بنوں

    مجھے لگن کہ میں آئینے کی مثال رہوں

    اسے ہوس کہ روایات‌ سنگ خارا بنوں

    غزل وہ کیوں نہ ہو فارغؔ در عدن کہ جہاں

    ہر ایک شعر کو ضد ہو کہ شاہپارہ بنوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY