جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں

خلیل مامون

جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں

خلیل مامون

MORE BYخلیل مامون

    جھلستے لمحوں کا لمس لے کر میں چل رہا ہوں

    خود اپنی دوزخ کی آگ کھا کر میں پل رہا ہوں

    سفر کی روداد بھی مری کچھ عجیب سی ہے

    میں اخضری پہاڑیوں سے گر کر سنبھل رہا ہوں

    مرا وجود و عدم بھی اک حادثہ نیا ہے

    میں دفن ہوں کہیں کہیں سے نکل رہا ہوں

    چتا بجھا دے کوئی کوئی استھیاں بہا دے

    میں آرزو میں سحر کی صدیوں سے جل رہا ہوں

    سمندروں کا سواد میری زبان پر ہے

    میں سونگھ کر مچھلیوں کی خوشبو مچل رہا ہوں

    نہیں ہے مامونؔ ساتھ میرے یہاں پہ کوئی

    اکیلا ہی زندگی کی راہوں پہ چل رہا ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Sanson Ke Paar (Pg. 145)
    • Author : Khalil Mamoon
    • مطبع : Educational Publishing House, Delhi (1976)
    • اشاعت : 1976

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY